حکومت کا کاروباری طبقے کو سی پیک کے اگلے مرحلے میں شامل کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکلہ تا ڈی آئی خان سیکشن کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، سکھر تا حیدرآباد سیکشن کا آغاز آئندہ 6 سے 8 ماہ میں کیا جائے گا جبکہ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام رواں ماہ شروع کر دیا جائے گا۔

188

اسلام آباد: سابقہ حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تفصیلات سے قوم کو پوری طرح آگاہ نہیں کیا تھا جس پر اسے کافی تنقید کا بھی سامنا رہا لیکن موجودہ حکومت کاروباری طبقے کو سی پیک کے اگلے مرحلے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے.
کیبنیٹ‌کمیٹی برائے سی بپیک نے بدھ کے روز ہونے والی ملاقات میں سی پیک بزنس فورم کی تشکیل دی تاکہ اس راہداری کے آئندہ منصوبوں کے حوالے سے کاروباری طبقے کو اعتماد میں‌ لے گی.
ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے کہا کہ سی پیک کے آغاز سے ہی حکومتی اداروں اور کاروباری طبقے کے مابین رابطوں‌کا فقدان رہا ہے. انہوں نے کہا “مختلف حلقوں سے نامور کاروباری شخصیات اس نئے فورم کا حصہ ہوں گی جو حکومتی اور نجی اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں‌گی.”
خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ سی پیک کمیٹی نے اس راہداری منصوبے کے ایک اہم مرحلے کا رواں ماہ آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے.
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے سیکشن حکلہ تا ڈیرا اسماعیل خان کا 60 فیصد کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے. انہوں نے مزید کہا “یہ اقدام مغربی راہداری کے ساتھ رہنے والے افراد کا احساس محرومی کم کرے گا.”
وزیر منصوبہ بندی و ترقی کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ مغربی راہداری کے گمشدہ رابطوں کو بحال کرنے پر مرکوز ہے اور اس سلسلے میں آئندہ 6 سے 8 ماہ میں سکھر تا حیدرآباد سیکشن کا آغاز کئے جانے کا بھی امکان ہے.
انہوں نے کہا کہ پچھلے 5 سالوں میں صنعتی شعبہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم موجودہ حکومت اس شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے جبکہ رشکئی، خیبر پختونخواہ میں خصوصی اقتصادی زون کیلئے رعائتی معاہدوں پر دستخط رواں مہینے کی 25 تاریخ تک جبکہ اس کا آغاز اپریل میں‌ کئے جانے کا امکان ہے.
خسرو بختیار نے واضح‌ کیا کہ سی پیک کیلئے مختص فنڈز کو کسی اور منصوبے کیلئے ہرگزاستعمال نہیں‌ کیا جائے گا جبکہ ایسے اقدامات کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں مستحکم ترقیاتی ہدف کیلئے نئے سرے سے اصلاحات کی جا چکی ہیں.
انہوں نے کہا “اس وقت چائنہ کی معاونت سے 28 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے.” انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی خصوصی توجہ سی پیک کے تحت 6 شعبوں بشمول زراعت، تعلیم، صحت، غربت میں کمی، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام پر مرکوز ہے.
وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کی حکومت نے اگلے 3 سال میں ان منصوبوں کیلئے 1 ارب ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس میں سے نصف پہلے سال ان منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کے ایم ایل ون بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا. انہوں نے مزید کہا “اس منصوبہ پر کام کو تیزی بنانے کیلئے وزیر ریلوے شیخ رشید کی سربراہی میں اس کے نفاذ کیلئے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو مالی بچت، منصوبوں کے مراحل اور گنجائش کی 2 ہفتوں میں نشاندہی کرے گی. حتمی فیصلہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا.”
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کا شعبہ سی پیک کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس شعبہ میں برآمدات میں اضافے اور غذائی اجناس میں ترقی کے مواقعوں کی نشاندہی کیلئے چینی ماہرین کی ایک ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی.
وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ کیبنیٹ کمیٹی نے گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام رواں ماہ شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here