بزنس کمیونٹی کی جانب سے پاکستان اور ترکی کے مابین سٹریٹجک اکنامک فریم ورک کی تعریف

فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں پاکستان اپنی مصنوعات پر ترکی سے وہی ڈیوٹی اور ٹیکس لگانے کا مطالبہ کرے جو اردن اور مصر کی مصنوعات پر لگ رہا ہے: صدر فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

226

اسلام آباد: فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجنیئر دارو خان اچکزئی پاکستان اور ترکی کے مابین مختلف شعبوں میں تجارت بڑھانے کیلئے سٹریٹجک اکنامک فریم ورک کی تشکیل کو سراہا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایس ای ایف کا بنیادی مقصد موجودہ 800 ملین ڈالر سے تجارتی حجم میں پانچ گنا اضافہ کرنا ہے.

اصدر فیڈرل چیمبر نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے دونوں ممالک کے مابین رواں سال فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط بھی متوقع ہیں. حالانکہ پاکستان اور ترکی اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او)، ڈی ایٹ، سی اے سی سی آئی اور او آئی سی کے ممبر ہیں تاہم دونوں ممالک میں تجارت بالکل کم ہے.

انہوں نے حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط سے پہلے ترکی کی جانب سے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر اینٹی ڈمپنگ بیرئیر ختم کرائے. کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات ترکی کو کم ہو گئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل اور چاول کو ترکی میں ہائی ٹیرف ریٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر پاتی ہیں. فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں پاکستان کو اپنی مصنوعات پر وہی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ڈیمانڈ کرنی چاہیے جو ترکی اردن اور مصر کی مصنوعات پر لگا رہا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here