بجلی کی مد میں 42 ارب روپے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ذمے واجب الادا

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے سینٹ کو بتایا کہ پنجاب کے ذمے 6 ارب روپے، سندھ کے ذمے 8 ارب روپے، کے پی 1 ارب اور بلوچستان کے ذمے سب سے زیادہ 14 ارب روپے جبکہ باقی رقم وفاق کے ذمے واجب الادا ہے

98

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے جمعہ کے روز سینٹ کو بتایا کہ بجلی کی تقسیم کمپنیوں (ڈسکوز) کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذمے واجب الادا 42.453 ارب روپے وصول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.

وفاقی وزیر نے ایک تحریری جواب میں ایوان بالا کو بتایا کہ 31.3 ارب روپے صوبوں کے ذمے واجب الادا ہیں. جس میں پنجاب کے ذمے 6 ارب روپے، سندھ کے ذمے 8 ارب روپے، کے پی 1 ارب اور بلوچستان کے ذمے سب سے زیادہ 14 ارب روپے واجب الادا ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاور جنریشن کمپنیوں (جینکوز) میں گزشتہ دو سالوں سے کل 0.079 ارب یونٹس بجلی ضائع ہو رہی ہے. انہوں نے کہا کہ جینکوز کے اکثر یونٹ پرانے ہونے کی وجہ سے سٹینڈ بائی پوزیشن میں رکھے گئے جس کی وجہ سے بجلی ضائع ہوتی رہی. انہوں نے کہا کہ جینکوز پاور پلانٹس فرنس آئل پر چلتے ہیں گزشتہ دو سالوں میں فرنس آئل کی کمیابی کی وجہ سے اکثر پلانٹس کو شٹ ڈائون کا سامنا کرنا پڑا.

سینٹ کو بتایا گیا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی دیکھ بھال پر ایک سال میں 20 ارب روپے خرچ ہوئے. اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ 1100 میگا واٹ کی کپیسٹی کا حامل چشمہ پاور پلانٹ یونٹ 5 ضلع میانوالی کے علاقہ کندیاں میں لگایا جائے گا اور 2026ء میں مکمل ہوگا. انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے معاہدہ 21 نومبر 2017ء کو طے پا چکا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here