پی آئی اے، سٹیل ملز، لاہور ائیرپورٹ سمیت 48 اداروں کی فروخت کا فیصلہ

وومن بینک، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سینٹر، لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ماڑی اور لاکھڑا کی پہلے مرحلے میں نجکاری ہوگی، جبکہ دوسرے مرحلے میں 3 سے 5 سال میں 41 اداروں کو فروخت کیا جائے گا

282

وفاقی حکومت نے 5 سال میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کارپوریشن (پی آئی اے) اور پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) سمیت 48 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سید مصطفیٰ محمود کی زیرصدارت ہوا جس میں سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے کمیٹی کو نجکاری پروگرام سے متعلق بریفنگ دی۔

سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کے سامنے موجودہ حکومت کا نجکاری پروگرام پیش کیا جس کے تحت حکومت نے 5 سال میں 48 ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کے نقصانات پونے 400 ارب روپے جبکہ پاکستان اسٹیل کے نقصانات 200 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں جو مجموعی طور پر 600 ارب روپے بنتے بنتے ہیں. اس لیے موجودہ حالات میں پی آئی اے کو کوئی نہیں خریدے گا۔

سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ ایک سے ڈیڑھ سال میں 7 اداروں کو فروخت کیا جائے گا، ایل این جی کے 2 پاور پلانٹس پہلے مرحلے میں فروخت کیے جائیں گے، حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی بھی نجکاری کی جائے گی۔

رضوان ملک نے بریفنگ میں بتایا کہ وومن بینک، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سینٹر، لاہورانٹرنیشنل ائیرپورٹ، ماڑی اور لاکھڑا کی پہلے مرحلے میں نجکاری کی جائے گی جب کہ دوسرے مرحلے میں 3 سے 5 سال میں 41 اداروں کو فروخت کیا جائے گا۔

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ پاکستان اسٹیل خریدنے کیلئے 5 سے 6 کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے، جن کا تعلق چین اور روس سے ہے. نئے سرمایہ کار پاکستان اسٹیل کی پیدواوری صلاحیت 11 سے بڑھا کر35 لاکھ ٹن سالانہ تک لانا چاہتے ہیں. پاکستان اسٹیل کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر فروخت کیا جائے گا. جبکہ اس کے بند ہونے سے حکومت کو ماہانہ 40 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق (ن) لیگ کی حکومت کے گزشتہ 5 سال میں 5 اداروں کی نجکاری کی گئی، 2013 سے 2018 میں 5 ادارے 173 ارب روپے میں فروخت کیے گئے، پیپلزپارٹی کے2008 سے 2013 کے دورمیں ایک ادارے کی نجکاری کی گئی، مسلم لیگ ق کے 2002 سے 2007 کے دور میں 38اداروں کی نجکاری 377 ارب روپے میں کی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here