ایل این جی اسکینڈل: شاہد خاقان عباسی نیب میں طلب

223

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو(نیب) ایل این جی اسکینڈل میں ایک بار پھر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے سابق وزیراعظم کو 7 مارچ کو طلب کیا ہے اور شاہد خاقان عباسی کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو جواب جمع کرانے کے لیے 28 فروری تک کی مہلت دی گئی تھی لیکن مقررہ وقت میں جواب جمع نہیں کرایا گیا۔ نیب نے جواب جمع نہ کرانے پر شاہد خاقان عباسی کو دبارہ طلب کیا ہے۔ سابق وزیراعظم کو لکھے ہوئے جواب کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم 19 فروری2019 کو بھی ایل این جی اسکینڈل میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب محمد زبیر کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم نے شاہد خاقان سے تفتیش کی تھی۔ تفتیشی ٹیم نے سابق وزیراعظم کو 70 سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ بھی پیش کیا اور ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ایل این جی اسکینڈل میں تحقیقات کے لیے نیب نے مسلم لیگ نون کے رہنما مفتاح اسماعیل کو ریکارڈ سمیت گیارہ جنوری کو طلب کیا تھا جس میں مفتاح اسماعیل نے نیب کی جانب سے پوچھے گئے 30 سوالات کے جواب جمع کرائے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم سمیت دیگر کے خلاف تحقیقات کرنے کی منظوری دی تھی۔
سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے اکتوبر 2018 میں ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھولنے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ نیب کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو خط لکھ گیا تھا، جس میں متعلقہ وزارتوں سے ریکارڈ طلب کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here