سعودی عرب میں مقیم تار کین کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ

210

ریاض: سعودی مملکت میں اگرچہ سعودائزیشن کا عمل پُورے زور و شور سے جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں غیر مُلکی مخصوص شعبوں میں ملازمتوں سے فارغ ہو کر اپنے آبائی وطن کو لوٹ چکے ہیں۔ تاہم سعودی عربین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاکھوں تارکین کے سعودی مارکیٹ سے نکل جانے کے باوجود بھی سعودی عرب میں مقیم غیر مُلکی ملازمین کی جانب سے اپنے آبائی ممالک کو بھیجی گئی رقوم میں اضافہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔
ساما کے مطابق گزشتہ ماہ جنوری 2019ء کے دوران تارکین نے سعودی مملکت سے 11.024 ارب ریال بھجوائے جبکہ جنوری 2017ء کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 10.387 ریال تھا۔ اس طرح تارکین نے رواں سال جنوری میں گزشتہ سال کی جنوری کے مقابلے میں 6.1 فیصد رقوم زیادہ یعنی 637 ملین ریال زائد بھجوائے۔
جس سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب میں تارکین کی تعداد میں کمی کے باوجود آبائی وطن بھجوائی جانے والی رقوم کی شرح میں کمی نہیں، بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔
2018ء کے دوران تارکین نے مجموعی طور پر136.43 ارب ریال ترسیلاتِ زر کی مد میں اپنے وطن بھجوائے تھے۔ واضح رہے کہ سعودی مملکت کے کئی اہم شعبوں میں کُلی اور جُزوی سعودائزیشن کا نفاذ ہو چکا ہے، اکثر شعبے جن پر پہلے تارکین کی اجارہ داری تھی، اب وہاں دھڑا دھڑ سعودی نوجوان مرد اور خواتین تعینات کیے جا چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here