انڈونیشیا کا 20 پاکستانی مصنوعات کو فوری مارکیٹ رسائی دینے کا عندیہ

پاکستان انڈونیشیا کو آم، چاول، ایتھانول، تمباکو، دھاگا، کپڑا، تولیے اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرسکے گا

260

اسلام آباد: انڈونیشیا نے 20 پاکستانی مصنوعات کو اپنی مارکیٹ تک فوری رسائی دینے کا عندیہ دیا ہے.

دونوں ممالک کے مابین تجارتی معاہدے انڈونیشیا پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (آئی پی- پی ٹی اے) میں ترمیم کے بعد ایک رسمی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان انڈونیشیا کو آم، چاول، ایتھانول، تمباکو، دھاگا، کپڑا، تولیے اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرسکے گا.

جنوری 2018ء میں انڈونیشیا کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پی ٹی اے میں ترمیم کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے. جس کے بعد 2018ء میں شنگھائی ایکسپو کے موقع پر پاکستان کے سیکریٹری کامرس یونس ڈھاگا اور انڈونیشیا کے وزیر تجارت کے مابین ایک ملاقات ہوئی اور یونس ڈھاگا نے پی ٹی اے میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا اور معاملے کو جلد حل کرنے کی درخواست کی.

سیکریٹری یونس ڈھاگا نے پاکستان کی زرعی مصنوعات پر نان ٹیرف بیرئیرز کا معاملہ بھی اٹھایا. وزارت کامرس کی کوششوں کے بعد اندونیشیا نے اپنی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کو یکطرفہ رسائی دے دی ہے.

آئی پی- پی ٹی اے پر 2012ء میں دستخط ہوئے تھے، تاہم یہ پاکستانی مصنوعات کو انڈونیشین مارکیٹ میں بڑھانے میں ناکام رہا، اس معاہدے کے باوجود پاکستانی برآمدات میں گراوٹ رہی اور جو برآمدات 2011ء اور 2012ء میں 236 ملین ڈالر کی تھیں وہ 2016ء اور 2017ء تک کم ہوکر 141 ملین ڈآلر رہ گئیں، تاہم 2018ء پاکستانی برآمدات کیلئے اچھا رہا اس سال برآمدات 296 ملین ڈالر ہو گئیں.

یہ معاہدہ انڈونیشیا کی حمایت میں زیادہ تھا، معاہدہ طے کرتے وقت دو طرفہ تجارت 1.6 ارب ڈالر تھی جو 2018ء میں 2.8 ارب ڈالر ہو گئی لیکن یہ اضافہ محض انڈونیشیا کی پاکستان کو برآمدات بڑھنے کی وجہ تھا جو2013-14ء میں 1720 ملین ڈالر تھیں لیکن 2018ء میں 2530 ملین ڈالر ہو گئیں.

وزارت کامرس نے معاہدے پر نظر ثانی کا معاملہ انڈونیشیا کی وزارت تجارت کیساتھ اٹھایا، جس کے بعد تین نظرثانی اجلاس ہوئے اور انڈونیشیا نے پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے 20 مصنوعات پر زیرو گرانٹ ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے یکطرفہ تجارت پر اتفاق کیا.

معاہدے میں نئی ٹیرف لائنز شامل ہونے کا رسمی نوٹیفکیشن صدر کی منظوری کے بعد جاری کیا جا چکا ہے جو مارچ 2019ء سے نافذ العمل ہوگا.

گزشتہ سال پاکستان نے دو لاکھ ملین ٹن چاول اور دو لاکھ ملین ٹن گندم انڈونیشیا کو بھجوائی. حال ہی میں وزارت کامرس نے آم برآمد کرنے کیلئے اندونیشیا سے خصوصی اجازت لی ہے.

روایتی طور پر پاکستانی کنو کی انڈونیشیا میں بہت زیادہ مانگ ہے. ٹیرف میں حالیہ کمی کے بعد ڈینم کپڑے، ایتھانول، تولیے، لیدر اور گھریلو ٹیکسٹائل کے اکسپورٹرز اب انڈونیشیا کی مارکیٹ اپنی مصنوعات بھیج سکتے ہیں.

مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے پاکستان کے تحفظات دور کرنے پر انڈونیشیا حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے، انہوں نے عندیہ دیا کہ پاکستان اپنے مفاد میں دیگر ممالک کیساتھ ایف ٹی ایز اور پی ٹی ایز پر نظر ثانی کریگا.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here