پاکستان میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کا منصوبہ، ترکی اور سپین سے 1 لاکھ پودے درآمد

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے زیتون کی کاشت کمرشل بنیادوں پر شروع کی جاری ہے اورپروجیکٹ کا دائرہ کارزیتون کی کاشت کیلئے موزوں علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے جس کا پی سی وَن پلاننگ کمیشن کو بھجوایا گیا ہے

495

اسلام آباد: ترکی اور اسپین سے قریباََ ایک لاکھ زیتون کے پودے پاکستان میں لائے گئے ہیں جس سے ملک میں زیتون کاشتکاری شروع ہوگی، اس کا مقصد پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر زیتون کی پیداوار ہے.

نیشنل ایگریکلچر سینٹر کے اس پروجیکٹ کے تحت بیرون ملک سے ساڑھے 5 لاکھ زیتون کے پودے منگوائے جائیں گے.

پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق باری نے بتایا کہ ایک لاکھ 50 ہزار مزید پودے پاکستان پہنچنے والے ہیں جبکہ باقی پودے بعد میں منگوائے جائیں گے.

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے زیتون کی کمرشل بنیادوں پر کاشت شروع کی جاری ہے. پروجیکٹ کا دائرہ کارمزید ایسے علاقوں تک بڑھانے کیلئے جو کہ زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ثابت ہوسکتے ہیں ایک پی سی وَن پلاننگ کمیشن کو بھجوایا گیا ہے.

چونکہ زیتون کا پودا ایک حد تک خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے حکومت نے وزیرستان، فاٹا ایجنسیز اور بلوچستان کے ان اضلاع میں زیتون کی کاشتکاری کا فیصلہ کیا ہے جہاں گزشتہ چند سالوں میں خشک سالی کا سامنا رہا ہے.

ڈاکٹر باری کے مطابق اس ضمن میں ایک سٹڈی بھی مکمل ہوچکی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ علاقے زیتون کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہیں.

فاٹا اور وزیرستان میں زیتون کی کاشت سے وہاں کے کاشتکار پیشہ لوگوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بن جائے گا.

ایک تخمینے کے مطابق فاٹا میں 45 فیصد علاقے جبکہ باجوڑ، کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ثابت ہوسکتے ہیں.

ڈاکٹر باری کے مطابق فاٹا میں کمرشل بنیادوں پر زیتون کاشت کرنے کے مخلتف فوائد ہیں جیسے کہ ماحولیات کا تحفظ، دیہات کی سطح پر کاروبار کی وسعت، روزگار، لوگوں کی کمائی اور طرز زندگی میں بہتری وغیرہ.

جبکہ بلوچستان میں لورالائی، قلعہ سیف اللہ، موسیٰ خیل، ژوب اور خضدار کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے موذوں ثابت ہوسکتے ہیں.

کچھ علاقوں میں زیتون کی کاشت سے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے پروجیکٹ میں بلوچستان کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here