‘حکومت کو اسلامی بنکوں سے مزید 1.4 ارب‌ ڈالر قرضہ لینا پڑ سکتا ہے’

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے 1.4 کھرب روپے (10.1 ارب ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں

160

اسلام آباد: وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق پاور سیکٹر میں مالی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کو اسلامی بنکوں سے 200 ارب روپے (1.45 ارب ڈالر) قرض لینا پڑ سکتا ہے.

حکومت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بارہا دی گئی وارننگ کے بعد پاور سیکٹر کے بقایا جات (گردشی قرضے) ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے.

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے 1.4 کھرب روپے (10.1 ارب ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں.

حکام کے مطابق گزشتہ ماہ 200 ارب روپے کے سکوک بانڈ حاصل کیے گئے تھے اور آئندہ مہینوں میں مزید حاصل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے. مقامی میڈیا کے مطابق پہلے بانڈز 6 اسلامی بنکوں سے حاصل کیے گئے تھے جن کے سینڈیکیٹ کی سربراہی پاکستان کا میزان بنک کر رہا تھا.

وزارت خزانہ کے مشیر اور ترجمان خاقان حسن نجیب نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 200 ارب ورپے قرض کیلئے بنکوں کے پاس جا رہی اور سکوک کا راستہ بھی اختیار کیا جارہا ہے.

بجلی کے شعبہ میں مسائل پاکستان کی معیشت پر کافی حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں اور اس شعبہ کے گردشی قرضوں کی ادائیگی آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا کلیدی حصہ ہے جبکہ پاکستان آئی ایم ایف سے 1980ء سے لیکر 12 بیل آئوٹ پیکج لے چکا ہے.

نجیب کہتے ہیں کہ حکومت آئندہ مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضوں میں کمی کرنا چاہتی ہے.

کم ہوتے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکائونٹ خسارہ کے باوجود پاکستان ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کی سعی کر رہا ہے جبکہ آئی ایم ایف پیکج کی بجائے حکومت دوست ممالک سے امداد اور سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے.

بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کیلئے ایک بانڈ بھی جاری کیا گیا ہے جبکہ یوآن سے منسلک ایک پانڈہ بانڈ جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے.

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سست روی کا شکار ہیں، کافی پاکستانی حکام اس بات پر معترض بھی ہیں کہ بیل ائوٹ پروگرام سے معیشت مزید بدحال ہوگی.

نجیب نے آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی ڈیل کی تاریخ کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا تاہم انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں.

انہوں کا کہنا تھا کہ حکومت اور وزیر خزانہ چاہتے ہیں کہ آئندہ پیکج پاکستان کیلئے آخری پیکج ثابت ہو.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here