‘پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا، جاپان، جرمنی، ترکی بھی سرمایہ کاری کیلئے آ رہے ہیں’

سعودی سرمایہ کاری کےبعد بال اب ہمارے کورٹ میں‌ ہے ، یہ پہلا فیز ہے. اگر ہم اسے وقت پر استعمال کر پائے تو جلد دوسرا فیز بھی شروع ہوگا: ڈاکٹر اشفاق حسن خان

340

چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دورت ممالک کی بروقت امداد کے ساتھ مالی بحران جیسی نازک کیفیت سے نکل چکا ہے اور جاپان، جرمنی اور ترکی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہیں.

اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کے رکن ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے عرب نیوز کو بتایا کہ ادائیگیوں کے توازن میں بحران پر قابو پانے، معیشت کے ڈھانچے موجود مسائل دور کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری ملک میں لانے سمیت حکومت مختلف طرح کی معاشی حکمت عملی اختیار ہوئے ہے.

انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں‌ میں توازن کا مسئلہ کم از کم رواں مالی سال کیلئے حل ہوچکا ہے.

ڈاکٹر عابد کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت بہتر صورتحال کی جانب گامزن ہے اور اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات کی جائے تو سعودی ولی عہد کا حالیہ دورہ کافی کامیاب رہا ہے.

یہ بھی پڑھیے:رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں 17 فیصد کمی

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورہ ایشاء کا پہلا پڑائو اسلام آباد میں کیا تھا جہاں پاکستان اور سعودی عرب کے حکام کے مابین 20 ارب ڈالر کے مختلف معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوئے تھے.

یہ بھی پڑھیے: سعودیہ اور پاکستان کے مابین 28 کھرب روپے کے معاہدے، سعودی ولی عہد کا مزید سرمایہ کاری کا اعلان

اقتصادی مشاورتی کونسل کے دوسرے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن خان کہتے ہیں کہ یہ ابھی آغاز ہے، اس دورہ کے اصل ثمرات تب سامنے آئیں گے جب دیگر ممالک اسے دیکھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے. انہوں نے کہا سعودی سرمایہ کاری تین قسم کی ہے. سات ارب ڈالر کی مختصر مدت کی سرمایہ کاری ہے، دو ارب ڈالر کی وسط مدتی جبکہ 12 ارب ڈالر کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی ہے یہی اصل کامیابی ہے.

یہ بھی پڑھیے: پاکستان مالی بحران سے نکل چکا، معیشت درست سمت میں گامزن ہے: گورنرسٹیٹ بنک

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کہتے ہیں کہ اب بال ہمارے کورٹ میں‌ ہے کہ ہم اسے بیرونی سرمایہ کاری کا پہلا فیز سمجھیں، اگر ہم اسے وقت پر استعمال کر پائے تو جلد دوسرا فیز بھی شروع ہوگا. سعودیہ کی طرح دیگر ممالک جاپان، جرمنی، ترکی وغیرہ بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں.

واضح رہے کہ پاکستان 6 ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف سے بھی مذاکرات کر رہا ہے، گو کہ حکومت یہ بیل آئوٹ پیکج لینے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرپائی تاہم ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ شائد یہ پروگرام آئندہ مالی سال کیلئے حاصل کیا جائے.

یہ بھی پڑھیے:آئی ایم ایف نے بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھانے کا نہیں کہا: عبدالرزاق دائود

ڈاکٹر سلہری نے بھی یہی بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑے. “میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ملکی معیشت اس وقت درست سمت میں گامزن ہے اور رواں مالی سال کیلئے ہم ادائیگیوں کے توازن جیسے بحران سے نکل چکے ہیں.”

تاہم ڈاکٹر خان آئی ایم ایف کے پاس جانے کے خیال کے مخالف ہیں، وہ کہتے ہیں‌ کہ یہ عجیب صورتحال ہے کہ حالیہ معاشی کامیابیوں کے باوجود ہم آئی ایم ایف کے پاس کشکول لیکر جانے پر مصر ہیں. جس دن ہم آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے ہماری مشکلات بڑھ جائیں‌گی.

یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف نے پوزیشن بدل لی، معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں: اسد عمر

وزیر خزانہ اسد عمر یہ باور کرا چکے ہیں کہ حکومت اور آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکج کی ڈیل کیلئے کافی قریب آچکے ہیں، کچھ دن پہلے انہوں نے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اختلافات کافی حد تک کم ہوچکے ہیں کیونکہ فریقین معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات پر متفق رکھتے ہیں.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here