پاکستان مالی بحران سے نکل چکا، معیشت درست سمت میں گامزن ہے: گورنرسٹیٹ بنک

رواں سال کے خسارے نے معیشت پر برے اثرات مرتب کیے ہیں تاہم اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ایک منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر کام جاری ہے

114

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے کہا ہے دوست ممالک کی مدد سے پاکستان مالی بحران سے نکل چکا ہے اور معیشت کی سمت درست ہوچکی ہے.

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بنک نے کہا کہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے، حکومت درست راستے پر ہے اور تمام معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تبدیلی حکومت کے پہلے 6 ماہ، قرضوں میں 2 ہزار 425 ارب روپے اضافہ

موجودہ مالی خسارے کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں سال کے خسارے نے معیشت پر برے اثرات مرتب کیے ہیں تاہم اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ایک منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر کام جاری ہے.

انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ پاکستان کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے اور اسے کم کرنے کیلئے حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے پیکج کے لیے اب بھی مذاکرات کر رہی ہے.

یہ بھی پڑھیے: شدید مالی بحران، پاکستان کی مالیاتی ریٹنگ ’بی نیگیٹو‘ ہو گئی

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 3 کھرب روپے قرض لیا جس میں سے 2 کھرب روپے واپس ہوچکے ہیں اور حکومت نے قرض لینے کی حد عبور نہیں کی.

یہ بھی پڑھیے: رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 35 فیصد کمی

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکنگ کورٹس میں 600 ارب روپے تک کے کیسز زیر التواء ہے جن پر فوری فیصلوں کے لیے عدالت کی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز پر فوری فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ بینک ان مقدمات میں ملوث رقم کا استعمال کرسکیں۔ اسٹیٹ بینک نے عدالت کی معاونت کے لیے ججز کی تربیت کے اخراجات اٹھانے کی پیشکش کی ہے تاکہ زیر التوا کیسز کا فوری فیصلہ کیا جاسکے۔

1 COMMENT

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here