پاکستان کے ساتھ ہونے والے حالیہ ایم او یوز محض آغاز ہیں، سعودی وزیر خارجہ

88

سلام آباد: سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے حالیہ ایم او یوز محض آغاز ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان اور سعودی وزیرخارجہ کی مسترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں آگے لیکر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے سرمایہ کاری تجارت اور سیاسی مقالمے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا پاکستانیوں نے سعودی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں مزید مواقع بھی دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پیپل ٹو پیپل تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایم او یوز امداد نہیں سرمایہ کاری ہے ہم پاکستان کی ترقی میں موثر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں یقین کے کہ پاکستان میں سرمایا کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ساتھ سیکیورٹی میں تعاون کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے عسکری، ثقافتی اور سماجی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ ہم پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ طالبان اور افغان حکومت میں کوئی معاہد ہو سکے اورمعاہدے سے افغانستان اور پاکستان میں امن ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن آئے گا۔
پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں دونوں ہمسایہ ممالک میں کشیدگی کم ہو اور تمام مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے کس سطح پر پاکستان سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی ولی عہد حکام اور وفود سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ہم نے سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کونسل دنیا کے کسی بھی ملک کیساتھ سعودی عرب نے میکانزم بنایا ہے اس کا مقصد ایم او یوز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپس اور اسٹیئرنگ کمیٹیوں کو ٹائم لائن دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ویزہ فیس، مزدوروں کے مسائل اور قیدیوں کے حوالے سے بات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے مابین 28 کھرب روپے کے معاہدے

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here