پلوامہ حملے کا ردعمل: ایم ایف این اسٹیٹس ختم کرنے کے بعد بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کردی

حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی بھارت کو برآمدات کا حجم 5 ارب ڈآلر ہوتا تو یہ سٹیٹس ختم ہونے کا بے حد نقصان ہوتا تاہم 410 ملین ڈالر ایکسپورٹس کیساتھ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ بھارتی فیصلے سے پاکستان کو نقصان ہوگا

352

لاہور: پلوامہ حملے کے ردعمل میں ایم ایف این (موسٹ فیورڈ نیشن) سٹیٹس ختم کرنے کے بعد اب بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر ڈیوٹی 200 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا ہے.

جمعہ کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزور پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے قافلے پر ہونے والے حملے میں 40 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد بھارت نے 1996ء میں پاکستان کو دیا جانے والا ‘پسندیدہ ملک’ کا درجہ ختم کردیا ہے.

ہفتہ کو بھارت کی وزارت خزانہ نے پاکستان درآمدات پر 200 فیصد لیویز عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا.

بھارت پاکستان سے گارمنٹس، سیمنٹ، کیمیکلز، منرلز، پھل، تیل، اور سرجیکل آلات خریدتا ہے جبکہ پاکستان بھارت سے مخلتف پھل، سبزیاں، ٹائر، کاٹن، پلاسٹک، مشینری، بحری جہازوں کا سامان، ربڑ، کیمیکلز اور فارماسیوٹیکلز پروڈکٹس منگواتا ہے. دونوں ممالک تجارت کیلئے لائن آف کنٹرول(ایل او سی)، واہگہ بارڈر اور پورٹ قاسم کے راستے استعمال کرتے ہیں.

کچھ اعلیٰ حکام نے نام طاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ بھارت نے پاکستان کو ایم ایف این سٹیٹس 1996ء میں اس وقت دیا جب اس نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ (گیٹ) پر دستخط کیے. گیٹ کے تحت بھارت ڈبلیو ٹی او کے تجارتی پارٹنرز کو ایم ایف این سٹیٹس دینے کا پابند تھا.

تاہم حکام نے بتایا کہ پاکستان اس اسٹیٹس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا تھا کیونکہ بھارت نے نان ٹیرف بیرئیر لگا رکھے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی بھارت کو ایکسپورٹس محض 410 ملین ڈالر تھیں. جبکہ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کو ایم ایف این سٹیٹس نہیں بھی دیا تھا اس کے باوجود پاکستان کو بھارتی برآمدات 1.81 ارب ڈآلر تھیں.

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی بھارت کو برآمدات کا حجم 5 ارب ڈآلر ہوتا تو یہ سٹیٹس ختم ہونے کا بے حد نقصان ہوتا تاہم 410 ملین ڈالر ایکسپورٹس کیساتھ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ بھارتی فیصلے سے پاکستان کو نقصان ہوگا.

2 تبصرہ

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here