2022ء تک عالمی سطح پر ای کامرس سیلز 3 کھرب ڈالر ہوجائیں گی: رپورٹ

ریسچ ایجنسی کے تجزیہ کے مطابق چین اس وقت ای کامرس کی سب سے بڑی عالمی منڈی ہے جس کی 2019ء میں ٹوٹل ای کامرس سیلز 884 ارب ڈالر ہیں جبکہ 2022ء تک یہ ان میں 1.24 تک اضافہ متوقع ہے.

174

لاہور: فچ سلیوشنز کی رپورٹ کے مطابق 2022ء تک عالمی سطح پر ای کامرس سیلز 3 کھرب ڈالر ہونے کی توقع ہے جبکہ یہی سیلز 2017ء میں اندازاََ 1.770 کھرب ڈالر تھیں.

فچ سلیوشنز کی “گلوبل ای کامرس انڈیکس اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ” رپورٹ کے مطابق تیزی سے ترقی کرنے والی ای کامرس مارکیٹیں مشرق وسطیٰ اور ایشیاء میں ہیں.

ریسرچ ایجنسی کے مطابق 2018 سے 2020ء کے درمیان ہر سال چین میں ای کامرس کے شعبے میں 15.7 فیصد اضافہ ہوگا، اسی طرح انڈونیشیا میں 18.3 فیصد، متحدہ عرب امارات کیلئے 23 فیصد جبکہ مراکو کیلئے 23.4 فیصد اضافہ ہوگا.

فچ سلیوشنز کے ڈیٹا کے مطابق عالمی سطح پر 2018ء سے 2022ء تک اوسطاََ 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوگا.

ریسرچ ایجنسی کے تجزیہ کے مطابق چین اس وقت ای کامرس کی سب سے بڑی عالمی منڈی ہے جس کی 2019ء میں ٹوٹل ای کامرس سیلز 884 ارب ڈالر ہیں جبکہ 2022ء تک یہ ان میں 1.24 تک اضافہ متوقع ہے.

امریکا ای کامرس سیلز میں دوسرے نمبر پر ہے اور 2019ء کے دوران اس کی سیلز کے 457 ارب ڈالر کو چھونے کی توقع ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں کمی اور ای کامرس سے وابستہ افراد کی جانب سے فنانس اور ڈویلپمنٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری سے ای کامرس سیلز کو وسعت مل سکتی ہے.

فچ سلیوشنز کا چینی ای کامرس کمپنی علی بابا سے متعلق تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ کمپنی بیلٹ اینڈ روز منصوبے میں شامل مارکیٹوں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا میں آپریشنز شروع کرنے اور دراز کمپنی کی ملکیت حاصل کرنے کی وجہ سے اب یہ ایک مثالی کمپنی بن چکی ہے. مزید برآں علی بابا قازقستان میں علی ایکسپریس کے نام سے، کینیا میں علی پے اور روس میں علی ایکسپریس اور ٹی مال کے نام سے کام کر رہی ہے.

تھائی لینڈ کی ای کامرس مارکیٹ میں علی بابا کمپنی سمارٹ ڈیجیٹل حب کے نام سے کام کر رہی ہے اور Lazada میں سرمایہ کاری کر رہی ہےجبکہ یہ انڈونیشیا میں بھی لزاڈا اور ٹوکو پیڈیا میں سرمایہ کاری کرچکی ہے.

اس کے علاوہ بھارت بھی علی بابا سے فائدہ اٹھا رہا ہے یہاں کمپنی نے Paytm اور بگ باسکٹ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جبکہ ہانگ کانگ میں جے وی کے نام سے ایک لوجسٹکس نیٹ ورک بنا رکھا ہے.

دلچسپ طور پر علی بابا کی سب سے بڑی مدمقابل جے ڈی ڈاٹ کام اتنی مثالی حیثییت نہیں رکھتی، یہ کمپنی پاکستان ، بنگلہ دیش ، کینیا، قازقستان اور سری لنکا میں کام نہیں کرتی. اس کمپنی نے ایکس فائیو ریٹیل گروپ کے ساتھ روس میں دوبارہ کام شروع کیا ہے، جبکہ تھائی لینڈ میں سینٹرل گروپ کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں کام کر رہی ہے، اسی طرح گو جیک، پومیلو، اور ٹریولوکا انڈونیشیا میں سرمایہ کاری کررہی ہے. کمپنی ہانگ کانگ میں بغیر سٹاف سٹور کھولنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے.

فچ سلیوشنز کے مطابق مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ (MENA) میں ای کامرس مارکیٹ تیزی سے ترقی ضرور کر رہی ہے لیکن یہ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ نہیں. اس علاقے میں 2018ء سے 2022ء تک ای کامرس سیلز 18 فیصد ہونے کا امکان ہے جبکہ ایشیاء میں اسی مدت کے دوران سیلز 14 فیصد رہنے کا امکان ہے.

لاطینی امریکا میں 2019ء کے دوران ای کامرس مارکیٹ 15 فیصد کیساتھ بڑھنے کی توقع ہے، صحرائے صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک میں ای کامرس مارکیٹ 10 فیصد جبکہ وسطی اور مشرق یورپ میں بھی اسی رفتار سے بڑھنے کی توقع ہے. اسی طرح شمالی امریکا اور مغربی یورپ میں بھی 10 فیصد کے قریب اضافہ متوقع ہے.

فچ شلیوشنز کی ایک سابق رپورٹ میں علی بابا کے ایشیاء میں وسیع ہوتے مفادات کو واضح کیا گیا تھا جودراز کی ملکیت حاصل کرنے اور پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں آپریشنز شروع کرنے سے بھی واضح ہو گئے تھے. ریسرچ ایجنسی کی جانب سے اس وقت کہا گیا تھا کہ علی بابا کا پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں قدم رکھنا قابل فہم ہے کیونکہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور آن لائن یا آف لائن ریٹیلرز ایسی آبادی کو ترجیح دیتے ہیں.

پاکستان کی نوجوان آبادی (20 سے 39 سال) ایشیائی ممالک بھارت، چین اور انڈونیشیا کے بعد سب سے بڑی ہے اور یہ 2018ء میں 64 ملین سے 69 ملین ہونے کی توقع ہے. اس کے علاوہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے، 2018ء میں 100 میں سے 31 پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ 2022ء میں یہ تعداد 100 میں 58 ہو جائے گی. انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھنے سے ای کامرس انڈسٹری کو بھی وسعت ملے گی.

ایک ای کامرس ایکسپرٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر “منافع” کو بتایا کہ پاکستان میں ای کامرس کے شعبے میں سرمایہ کاری لانے کیلئے ضروری ہے کہ سرمایہ کاروں کی سہولتیں دینی ہونگی تاکہ ای کامرس مارکیٹ سے مکمل فائدہ اٹھایا جاسکے کیونکہ ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی کھلاڑیوں بھارت وغیرہ سے ابھی اس لحاظ سے پیچھے ہے، یہ ضروری ہے کہ حکومت ایسی پالیساں بنائے جو ای کامرس کے شعبہ کی ترقی کا سبب بنیں.

سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ٹیکنالوجی کا علم رکھنے والی نوجوان آبادی کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، اسکے علاوہ ادائیگیوں کے طریقہ کار آسان بنانا ہوں گے تبھی پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری پھلے پھولے گی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here