امریکی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح 220 کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئے

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجموعی عوامی قرضے 220 کھرب 10 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، جو 20 جنوری 2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر 199 کھرب 50 ارب ڈالر تھے

267

امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کے قرضے (سالانہ بجٹ کا کل خسارہ) 220کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں.

امریکی ٹی وی فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجموعی عوامی قرضے 220 کھرب 10 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، جو 20 جنوری 2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر 199 کھرب 50 ارب ڈالر تھے.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر 2017ء میں 15 کھرب ڈالر کی ٹیکس کٹوتی اور 2018ء میں کانگریس کی جانب سے مقامی اور عسکری پروگراموں پر اخراجات میں اضافے کی وجہ سے قرض میں بڑھا.

تاہم امریکی حکومتی قرض دہائیوں کے لیے بڑھتا ہے، 1989 میں یہ 31 کھرب ڈالر، 1999 میں یہ 56 کھرب ڈالر اور 2009 میں 119 کھرب ڈالر تھا۔

دوسری جانب کانگریس کے بجٹ آفس (سی بی او) نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں سال کا خسارہ گزشتہ سال کے 779 ارب ڈالر کے مقابلے میں 897 ارب ڈالر ہوگا۔

سی بی او نے کہا کہ آنے والے برسوں میں قرض میں مزید اضافے کا امکان ہے اور 2022 میں یہ سالانہ 10 کھرب ڈالر بڑھے گا اور 2029 تک 10 کھرب ڈالر سے نیچے نہیں آئے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ بےبی بومرز کی بڑی نسل ریٹائرمنٹ کی طرف داخل ہوگی سوشل سیکیورٹی اور طبی فنڈ سے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ بے بی بومر ایک اصطلاح ہے جو 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

بے بی بومر دنیا کی آبادی خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کا ایک خاص حصہ رکھتی ہیں جبکہ امریکی عوام میں یہ تقریباً 20 فیصد نمائندگی کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here