یہ وقت ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا، سرمایہ کار اس بہترین موقع کو ضائع نہ کریں، وزیراعظم عمران خان کا ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب

265

دبئی میں ہونے والے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سےترقی کرتا ہوا ملک تھا، مگر بدقسمتی سے پاکستان ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکا جس کا سبب ماضی کے حکمرانوں کا عوام کا پیسہ عیاشی میں اڑانا تھا۔ لوگ ماضی کی حکومتوں پراعتماد نہیں کرتے تھے اس لیے وہ ٹیکس نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پرخرچ ہوتا رہا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے شرکاء کو بتانا چاہتا ہوں کہ کرکٹ سے سیاست میں کیسے آیا، یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میں پاکستان کے لیے کیا چاہتا ہوں، میری والدہ کا انتقال کینسر کے باعث ہوا تو احساس ہوا پاکستان میں کینسرکا کوئی اسپتال نہیں، کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسپتال بنانے پرتوجہ دی,عمران خان نے کہا کہ ترقی کی بنیاد ہی بہتر طرز حکمرانی ہے، خیرات میں ہم بہت آگے اور ٹیکس دینے میں بہت پیچھے ہیں، جب لوگ اتنے اچھے ہیں تو ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے، اس کی وجہ لوگوں کا حکمرانوں پر عدم اعتماد ہے، کرپشن سے ٹیکس کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اصلاحات مشکل ہیں مگرضروری ہیں، جب آپ شکست مان لیتے ہیں تب ہی آپ کو شکست ملتی ہے، جب آپ اصلاحات کرتے ہیں تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم معاشی اصلاحات کررہے ہیں، سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن کی تشکیل میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے معاونت کی تھی، ہمیں اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہوگا، میں پاکستان کو بہت اوپر لے کر جانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، سرمایہ کاروں سے کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا، سرمایہ کار اس بہترین موقع کو ضائع نہ کریں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نشیب وفراز قوموں کی تاریخ کا حصہ، پاکستان میں اصلاحات مشکل مگر ضروری ہیں۔ سمجھدار قیادت ہمیشہ مواقع سے فائدہ اٹھا کر قوم کو ترقی دیتی ہے۔ معیشت کے شعبے میں اقدامات اور اصلاحات سے بہتری لا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم اور قانون کی حکمرانی ترقی کی ضامن ہے۔ ہم اصلاحات کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں، مالیاتی خسارے کو کم اور معیشت کو مضبوط کرنے کی کوشیش کر رہے ہیں۔ پاکستان سیاحت کے لیے پرکشش ملک ہے۔ سیاحت سے ملائیشیا 22 ارب اور ترکی 42 ارب ڈالر کماتا ہے۔ پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر کی ساحلی پٹی ہے۔ پاکستان 5 ہزار سال پرانی تہذیبوں کا مرکز ہے جبکہ مذہبی سیاحت کے بھی پاکستان میں بے پناہ مواقع ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here