معاشی آزادی کے لحاظ سے پاکستان 55 پوائنٹس کے ساتھ دنیا میں131ویں نمبر پر رہا، رپورٹ جاری

110

لاہور: دنیا میں کاروباری اور معاشی آزادیوں پر نظر رکھنے والے ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کردی. رپورٹ کے مطابق پاکستان 55.6 سکور کے ساتھ دنیا میں 131ویں نمبر پر رہا. پاکستان کی رینکنگ میں 0.5 پوائنٹس بہتری ضرور آئی تاہم علاقائی اور عالمی طور پر پاکستان اب بھی پیچھے ہے.

2019ء انڈیکس آف اکنامک فریڈم رپورٹ کے مطابق موثر عدلیہ اور جائیداد کے حقوق کے ساتھ سکور مجموعی طور پر 0.6 فیصد بہتر ہوا تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے ایشاء پیسیفک ریجن کے 43 ممالک میں پاکستان 32ویں نمبر رہا اور اس کا مجموعی سکور علاقائی سطح پر 60.6 پوائنٹس جبکہ بین الااقوامی سطح پر 60.8 پوائٹس تک رہا.

البتہ حالیہ سالوں کے دوران پاکستان میں معاشی آزادی کے حوالے سے کچھ عناصر معتدل طور پر برقراررہے تاہم عشروں سے جاری اندرونی طور پر سیاسی رسہ کشی اور بیرونی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ملک کا گروتھ ریٹ کم رہا.

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ معیشت میں ضرورت سے زیادہ ریاستی مداخلت اور بالادست ریگولیٹری ایجنسیوں کی وجہ سے نجی کاروبار نہیں پنپ سکا اور بینک کریڈٹ کی غیر موجودگی اور مالیاتی شعبوں شعبوں کو بیرونی دنیا سے علیحدہ کرکے رکھنے کی وجہ سے جدت کو فروغ نہیں مل سکا.

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں عدلیہ میں زیر التوا کیسوں، ناقس سکیورٹی صورتحال اور بدعنوانی کی وجہ سے عدلیہ اور سول سروس داغدار رہی.

اکنامک فریڈم سکور درج ذیل چار کیٹیگریز میں جانچا جاتا ہے.

قانون کی حکمرانی:
رپورٹ کے اس سیکشن میں بتایا گیا ہے کہ پراپرٹی رائٹس کا تحفظ بہت کمزور ہے، عدلیہ تکنیکی طور پر تو آزاد ہے تاہم سیاست زدہ ہے. عدالتی نظام ناصرف بہت زیادہ سست روی کا شکار ہے بلکہ فرسودہ اور غیرموثر ہے. سیاست، حکومت اور انتظامیہ بدعنوانی میں ملوث ہےجہاں رشوت، بھتہ خوری، اقربا پروری، سرپرستی یا حمایت، غبن وغیرہ کی شکل میں بدعنوانی عام ہے اور عوام اسے معمولی تصور کرتے ہیں.

پراپرٹی رائٹس کے حوالے سے پاکستان کی رینکنگ گزشتہ سال سے 5.5 پوائنٹس بہتر ہوکر 41.5 ہو گئی. عدلیہ کی صورتحال میں 6.2 پوائنٹس بہتری ہوئی اور اسکی رینکنگ 40.2 پوائنٹس رہی، اسی طرح حکومتی دیانتداری میں 3.3 پوائنٹس اضافہ ہوا اور اس کی رینکنگ 30.6 رہی.

حکومت کا سائز:
اس سیکشن کا مجموعی سکور نکالنے کیلئے اسے ٹیکس، سرکاری اخراجات اور مالی صورتحال کے حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا. عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ کا سکور 80.5 پوائنٹس رہا جس میں گزشتہ سال کی نسبت 2.0 پوائنٹ اضآفہ ہوا. سرکاری اخراجات 0.6 پوائنٹس کم رہے اور سکور 87.6 پوائنٹس رہا. اسی طرح ملکی مالیاتی صورتحال کے پوائنٹس میں 4.8 کمی ہوئی اور اسکور 49.2 پوائنٹس رہا.

رپورٹ کے مطابق ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات کے باوجود پاکستان کا ٹیکسوں کا نظام بے حد پیچیدہ ہے. زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد جبکہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 30 فیصد کم ہے. گزشتہ تین سال میں سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے 20.3 فیصد جبکہ بجٹ خسارہ 5.1 فیصد رہا ہے اس کے علاوہ ملکی قرضہ جی ڈی پی کا 67.2 فیصد ہے.

موثر ریگولیٹری:
اس سیکشن کو بزنس فریڈم، لیبر فریڈم، مانیٹری فریڈم کے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے.
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بزنس فریڈم کا سکور 0.8 پوائنٹ بہتر ہوکر 56.1 پوائنٹس ہوگیا. لیبر فریڈم کا 1.2 پوائنٹس بہتری کیساتھ 41.8 جبکہ مانیٹری فریڈم کا سکور 5.1 پوائنٹس بہتر ہوکر 72.6 پوائنٹس ہو گیا. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاورباری کے فروغ کیلئے تو ماحول بتدریج بہتر ہو رہا ہے تاہم کاوربار شروع کرتے ہوئے مخلتف قسم کے لائسنس وغیرہ کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بے روزگار ہے، حالیہ بجٹ میں حکومت نے کنسٹرکشن، خوراک (خاص طور پر چینی کی صنعت کو) بجلی، پانی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو 36 فیصد سبسڈی دی ہے.

کھلی منڈی:
اس سیکشن میں ٹریڈ فریڈم، انویسٹمنٹ فریڈم اور فنانشل فریڈم کو رکھا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق ٹریڈ فریڈم کے پوائنٹس میں 1.1 کی کمی ہوئی یہ 64.8 پوائنٹس رہی جبکہ انویسٹمنٹ اور فنانشل فریڈم کے پوائنٹس میں کوئی اتار چڑھائو نہیں دیکھا گیا اوریہ 40 پوائنٹس تک رہے.

رپورٹ کے مطابق امپورٹ اور ایکسپورٹ کے مجموعی قدر ملکی جی ڈی پی کے 25.8 فیصد کے برابر رہی.

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قریباََ 25 فیصد آبادی بنک اکائونٹس رکھتی ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here