4.8 ارب روپے سٹیٹ لائف کارپوریشن کے جعلی ایجنٹوں کو ادا کیے جانے کا انکشاف

ایس ای سی پی نے وزارت کامرس کو سٹیٹ لائف کارپوریشن کے غیر معمولی منافع کے حوالے سے مطلع کیا، تحقیقات کے دوران ادائیگیوں‌ میں جعلسازی سامنے آئی، سیکریٹری کامرس یونس ڈھاگا کا پی اے سی اجلاس میں جواب

486

اسلام آباد: سیکریٹری کامرس یونس ڈھاگا نے پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کے رو برو انکشاف کیا ہے کہ 4.8 ارب روپے سٹیٹ لائف کارپوریشن لمیٹڈ (ایس ایل سی ایل) کے جعلی کمیشن ایجنٹوں کو ادا کیے گئے.

منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا. اجلاس میں وزارت کامرس کے 2012-13ء کے آڈٹ پیراز پر بحث کی گئی. بعد ازاں سیکریٹری کامرس یونس ڈھاگا نے کمیٹی کو پاکستان کے بیرون ممالک ٹریڈ مشنز کے کام سے متعلق بریفنگ دی.

اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصآف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے سیکریٹری کامرس سٹیٹ لائف کارپوریشن کے سیلز آفیسرز کی معطلی اور ملتان میں ان کے احتجاج سے متعلق استفسار کیا. سیکریٹری یونس ڈھاگا نے بتایا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) نے وزارت کامرس کو سٹیٹ لائف کارپوریشن کے غیر معمولی منافع کے حوالے سے مطلع کیا تھا جس کے بعد حکومت نے معاملے کی تحقیقات کیں اور ادائیگیوں‌ میں جعلسازی سامنے آئی.

انہوںنے بتایا کہ کہ حکومت نے نئے ترقی پانے والے سیلز آفیسرز کو ادائیگیاں روک دی ہیں جبکہ کسی سیلز آفیسر کو نوکری سے نہیں نکالا گیا.

راجہ ریاض کے ایک دوسرے سوال پر یونس ڈھاگا نے بتایا کہ سرکاری انشورنش کمپنیوں کو بشمول سٹیٹ لائف کارپوریشن نجکاری کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ یہ کمپنیاں حکومت کے ماتحت موثر طور پر چل رہی ہیں.

پی اے سی کے چیئرمین شہباز شریف کے ایک سوال پر یونس ڈھاگا نے جواب دیا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کچھ ہی عرصہ میں ملکی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ رواں مالی سال کی صرف پہلی ششماہی میں برآمدات 5 فیصد بڑھی ہیں.

انہوں نے بتایا کی وفاقی حکومت کی جانب سے ریگولیٹری ڈیوٹی لگائے جانے کے بعد درآمدات میں واضح کمی ہوئی ہے جبکہ برآمدات میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے. آج پاکستان ان ممالک سے بھی آرڈرز حاصل کر رہا ہے جو پاکستان سے کبھی ایک بھی چیز نہیں منگواتے تھے . پاکستانی برآمد کنندگان نے جرمنی میں منعقدہ ‘ہیم ٹیکس فیئر’ کے دوران بے شمار آرڈر حاصل کیے. گندم، چاول، چینی، آم، اور مالٹا بڑے پیمانے پر بیروم ملک بھیجے جا رہے ہیں.

اجلاس کے دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیپارٹمینٹل اکائونٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے وزارت کامرس کے بیشتر آڈٹ پیراز ابھی التواء کا شکار ہیں. اکائونٹس کے افسران کے آڈٹ کے افسران کے ساتھ نہ بیٹھنے کی وجہ سے سالہا سال سے آڈٹ پیراز التوا میں چلے آرہے ہیں.

اس موقع پر چیئرمین پی اے سی شہباز شریف نے سیکریٹری کامرس کو حکم دیا کہ وہ تمام اکائونٹنگ افسران کو باقاعدگی سے ڈیپارٹمینٹل اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنے کیلئے خط لکھیں.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here