علیم خان، یاسمین راشد سمیت پنجاب کے 20 سے زائد وزراء کے محکموں کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے تمام صوبائی محکموں کے لیے 238 ارب روپے مختص ہیں، 14 کھرب کا بجٹ صوبائی محکموں کو جاری کیا گیا جس میں سے 91 ارب روپےاستعمال ہوئے۔

142

لاہور: پنجاب کے وزرا کے ماتحت محکموں کی کارکردگی پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے رپورٹ تیار کرلی ہے جو وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد اورعلیم خان سمیت 20 سے زائد صوبائی وزرا کے ماتحت محکموں کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔

پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزراء فیاض الحسن چوہان، ڈاکٹر مراد راس، میاں محمود الرشید، سردار آصف نکئی ، ملک نعمان لنگڑیال، سردار حسین بہادر دریشک، راجا راشد حفیظ ، محمد جہانزیب خان کھچی، صوبائی وزیر کھیل محمد تیمور خان کے ماتحت محکمے پہلے دس بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہیں.

رپورٹ کے مطابق محکمانہ کارکردگی میں جنگلات، جنگلی حیات اور فشریز کی وزارت سب سے آگے رہی جس کی کارکردگی 49 فیصد رہی اور اس کے وزیر سبطین خان ہیں.

وزیر سیاحت پنجاب یاسر ہمایوں کے محکمے کی کارکردگی 31 فیصد، وزیر سوشل ویلفییر اینڈ بیت المال محمد اجمل کے محکمے کی کارکردگی 37 فیصد، وزیر آبپاشی محمد محسن لغاری کے محکمے کی کارکردگی 38 فیصد جبکہ وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کے محکمے کی کارکردگی 39 فیصد رہی۔

کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل انصر مجید خان نیازی کے محکمے کی کارکردگی 28 فیصد ، وزیر برائے خصوصی تعلیم محمد اخلاق کے محکمے کی کارکردگی 27 فیصد، آشفہ ریاض کے ماتحت محکمہ بہبود خواتین کی کارکردگی 22 فیصد رہی.

سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کے ماتحت محکمہ بلدیات کی کارکردگی 21 فیصد، میاں اسلم اقبال کے ماتحت محکمہ صنعت و تجارت کی کارکردگی 19 فیصد، حافظ عمار یاسر کے ماتحت محکمہ کانکنی و معدنیات کی کارکردگی 17 فیصد اور ڈاکٹر اختر ملک کے محکمہ وزیر توانائی کی کارکردگی 10 فیصد رہی۔

دوسری جانب صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز مسیح اور صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور پیر سعید الحسن کے ماتحت محکموں کی کارکردگی صفر رہی۔

رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے تمام صوبائی محکموں کے لیے 238 ارب روپے مختص ہیں، 14 کھرب کا بجٹ صوبائی محکموں کو جاری کیا گیا جس میں سے 91 ارب روپےاستعمال ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here