سمندری انٹرنیٹ کیبل خراب ’’ڈونگا‘‘ میں سائبر بلیک آؤٹ، ملک کانظام منجمد

229

ٹونگا کی انٹرنیٹ کیبل ٹونگا اور فجی کے درمیاں سمندر میں 827کلومیٹر دور کٹ گئی ہےجس میں خرابی کے مقام کو تلاش کیا جارہا ہے۔
بحیرہ اوقیانوس میں 170 جزائر پر مشتمل ملک ڈونگا کا انٹرنیٹ کی سمندری کیبل کٹنے کے باعث بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہوگیا. انٹرنیٹ کیبل کٹنے سے موبائل فونز اور انٹرنیٹ مکمل طورپر بند ہوگئے۔
بعض لوگوں کیلئے انٹرنیٹ کے بغیر دنیا جنت جیسی ہوسکتی ہے لیکن ٹونگا میں ایسا نہیں ہے کیونکہ ٹونگا کی زندگی کاسارا دارومدار انٹرنیٹ پر منحصر ہے، روزانہ کی تمام درآمدات و برآمدات سمیت روزمرہ امور اور تمام مقامی و غیر مقامی لوگوں سمیت سیاحوں سے منسلک رہنے کا واحد ذریعہ بھی صرف اورصرف انٹرنیٹ ہی ہے۔

ٹونگا کے حکام دنیا سے کٹنے کے بعد دنیا سے دوبارہ منسلک ہونے کیلئے زیرسمندر انٹرنیٹ کیبل کی خرابی دورکرنے کیلئے کوشاں ہوگئے ہیں اور تیزی سے خرابی دور کرکے مرمت کا کام مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
آن لائن نیوز سروس میٹنگی ٹونا کے ایڈیٹر میری فونا نے بین الاقوامی نیوز سروس اے ایف پی کوبتایا کہ ہمارے کاروبار کا سارا دارومدا ر اورحکومت سے رابطے صرف انٹرنیٹ کے زریعے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک رسائی نہیں ہے جو دوسرے لوگوں سے ہمارے رابطے کاواحد زریعہ تھا، کاروبارکرنے والے لوگوں میں سے کوئی بھی کسی کو نہ تو کوئی آرڈر دے سکتا ہے اور نہ ہی وصول کرسکتا ہے جبکہ ایئر لائنز والے سیاحوں سمیت کسی بھی آنے یا جانے والے کے ٹکٹ کی بکنگ نہیں کرسکتے۔
دنیا بھر سے سائبر اور حقیقی رابطے کٹنے کے بعدحکام بہت زیادہ پریشان ہیں اور وہ مسئلہ کے حل کیلئے کوشاں ہیں جبکہ مقامی طور پر ایمرجنسی رابطوں کیلئے مقامی سیٹیلائٹ کنکشن کو بیک اپ کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے جس کا استعمال انتہائی محدود پیمانے پر ایمرجنسی سروسز کیلئے ہے۔
فونا کا کہنا ہے کہ خرابی تلاش کر کے ٹھیک کرنے میں شاید 2 ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی مصیبت ہے کہ ہم دنیا سے مکمل طورپر کٹ گئے ہیں۔
اس سب کے باوجود ٹونگا کے باسیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ سائنس ہوٹل ٹونگا کی جنرل منیجر کیٹی سلکک نے کہا کہ یہاں کے باسی مشترکہ طور پر یہ جانتے ہیں کہ ’’جب یہ ٹھیک ہو جائے گا سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here