اقتصادی اصلاحات کے پیکیج میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اسد عمر کی پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس

138

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے اقتصادی اصلاحات کے پیکیج میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیاں بڑھانے، زرعی ترقی اور بجٹ خسارے کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے ہیں، پائیدار استحکام سے ہی روزگارکے مواقع اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہو گا، ملکی معیشت کی بنیاد کو ٹھیک کئے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے، 21 کروڑ افراد کی معیشت میں بہتری کیلئے وقت درکار ہے، 7 فیصد یا اس سے زائد کی شرح نمو ہو گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، معاشی ترقی کیلئے جی ڈی پی کے تناسب سے سرمایہ کاری کی شرح 25 سے 30 فیصد ہونی چاہئے، ملکی برآمدات 70 فیصد درآمدات کے برابر تھیںجو آج صرف 40 فیصد رہ گئی ہیں، نئی گاڑیوں کیلئے اون کسی صورت قابل قبول نہیں، مالیاتی اداروں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے، کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے نہ جی حضوری کریں گے۔ وہ جمعرات کو وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق داﺅد اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: منی بجٹ 23 جنوری 2019ء
وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو بجٹ خسارہ خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا، زرمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے گر رہے تھے، ادائیگیوں کا توازن مئی، جون اور جولائی میں 2، 2 ارب ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 19 ارب ڈالر کے مجموعی خسارے کی کوئی مثال نہیں ملتی، پاکستان بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقتصادی اصلاحات کے پیکیج کے تحت صورتحال کی بہتری کیلئے ہنگامی اقدامات کئے ہیں، حکومت اور سٹیٹ بینک کے اقدامات سے بھی صورتحال میں بہتری آئی ہے، اب تک جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان سے صورتحال میں بہتری نظر آئی ہے اور غیر معمولی کامیابی ہمیں ملی ہے، تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کیا اور مشکل فیصلے کئے ہیں تاہم 21 کروڑ افراد کی معیشت میں بہتری کیلئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک نے بھی پاکستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، ان کے ہم بے حد مشکور ہیں، اس طرح کی صورتحال ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2018-19ءکے مالیاتی فرق دور کرنے کیلئے انتظامات کر لئے ہیں، اگلے دو ہفتے میں مزید اقدامات بھی نظر آئیں گے، عوام کی صلاحیت، قدرتی وسائل، افرادی قوت، زراعت، معدنیات اور جغرافیائی محل وقوع پاکستان کو ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں، صحت، تعلیم اور سماجی شعبہ میں دنیا ہم سے آگے ہے اور چند ممالک ہی ہم سے پیچھے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین بنیادی خسارے ہیں جن کی وجہ سے معیشت مسائل کا شکار ہے اور ان سے ملک نکل نہیں پا رہا، ان میں محصولات سے زیادہ اخراجات، بجٹ خسارہ، درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے، ملکی برآمدات 70 فیصد درآمدات کے برابر تھیںجو آج صرف 40 فیصد رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت تب ترقی کرتی ہے جب سرمایہ کاری ہو، 7 فیصد یا اس سے زائد کی شرح نمو ہو گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، معاشی ترقی کیلئے جی ڈی پی کے تناسب سے سرمایہ کاری کی شرح 25 سے 30 فیصد ہونی چاہئے، اس وقت جی ڈی پی کے تناسب سے سرمایہ کاری کی شرح 15 فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرمایہ کاری زیادہ ہو گی تو بچت بھی بڑھے گی، ادائیگیوں کے توازن میں بھی بہتری آئے گی، حکومت کی اس پالیسی کا مقصد خسارہ پر قابو پانا ہے اور اس سلسلہ میں بہتری مستقل بنیاد پر ہونی چاہئے، پائیدار استحکام سے ہی روزگارکے مواقع اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہو گا، حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر معیشت میں پائیدار استحکام نظر آئے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کی مشاورت سے ذیلی کمیٹیاں بنائی گئیں جن کی مشاورت سے ہی ہم نے پالیسیاں بنائی ہیں اور کل سے ان پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے، ہم نے معیشت کو مسابقت کے قابل اور زراعت کو فعال بنانا ہے، ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری کا فروغ، صنعتی شعبہ کو پاﺅں پر کھڑا کرنا، زراعت کیلئے قرضوں کی فراہمی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت پر ناجائز بندشیں ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کیلئے ایک بنیادی روڈ میپ اپنایا ہے، ابھی اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، صنعت اور زراعت کو بہتر کرنا ہے، عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کی سکت پیدا کرنی ہے، ملکی معیشت کی بنیادوں کو ٹھیک کئے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی ہے اور ہمارے نوجوانوں کو وہ مواقع نہیں مل رہے جو دنیا کے دوسرے ممالک کے نوجوانوں کو حاصل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم دنیا کا ہر میدان میں مقابلہ کر سکتی ہے اور جیت بھی سکتی ہے، ہم نے بھی جیت کر دکھانا ہے۔ شادی گھروں پر ٹیکس میں کمی کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ اس سے عوام کو فائدہ ہو گا اس لئے ٹیکس کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی غیر ملکی دورہ سے واپس نہیں پہنچتے تو اس سے پہلے یہاں اعلان ہو جاتا ہے کہ دورہ ناکام ہو گیا ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے دوروں کے بعد بھی اسی طرح کی باتیں بھی سننے میں آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین سے فنانسنگ ایگریمنٹ پر بات ہوئی ہے، بس چند دنوں کی بات ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات پیکیج میں زراعت اور معیشت پر توجہ دی گئی ہے، ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، ایف بی آر کے مطابق ٹیکس وصولی میں 6 ارب 80 کروڑ روپے کی کمی ہو گی، پرنٹ میڈیا میں نئے ٹیکسوں کی خبر سمجھ سے بالاتر ہے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، صرف ایک ٹیکس میں اضافہ کیا ہے اور 1800 سی سی یا اس سے زائد گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے، معیشت میں سرمایہ کاری بڑھے گی، بنیادی ڈھانچہ اور زراعت میں بہتری آئے گی تو ٹیکس بھی ملیں گے، ہمارے اقدامات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اب ہم دوسرے مرحلہ میں جائیں گے جس کا ہمارے منشور بھی ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پارلیمانی مدت میں بنیادی اشاریوں میں وہ بنیادی تبدیلی نظر آئے گی جس کا ہم ماضی میں خواب ہی دیکھتے رہے ہیں، پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کے حوالہ سے تھوڑا انتظار کی ضرورت ہے، اگر ہمیں بہتر صورتحال ملی ہوتی تو جلدی اس طرف پیشرفت ہو جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: کاروباری و تجارتی حلقوں نے منی بجٹ کو کاروبار دوست قرار دے دیا
سٹاک مارکیٹ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں ساڑھے تین ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، غیر یقینی کی جو باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف ٹاک شوز اور ڈرائنگ رومز میں ہی نظر آتی ہیںِ، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کیلئے قرضے کی وصولی میں اضافہ پچھلے 13 سالوں میں تیزی سے ہوا ہے، پاکستان کی معیشت اور عوام کیلئے بہتر پروگرام ملا تو آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے، ہماری مارکیٹ مضبوط ہے اور فنانسنگ بڑھ رہی ہے اور قرضوں کی واپسی کے حوالہ سے خطرہ بھی کم ہو رہا ہے۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان 21 کروڑ غیرت مند اور آزاد منش عوام کا ملک ہے، مالیاتی اداروں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے، کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے نہ جی حضوری کریں گے، قومی مفاد میں فیصلے کریں گے، جو کہتا ہے کہ آئی ایف سی مفت قرضے دیتا ہے اس سے بڑا احمق کوئی نہیں، آئی ایف سی مفت قرضے نہیں دیتی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات میں کمی کیلئے حکومت اور سٹیٹ بینک نے مختلف اقدامات کئے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کمی آ رہی ہے، ملک میں اگر پیداواری صلاحیت زیادہ ہو گی تو باہر سے مصنوعات بھی کم درآمد کرنا پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک سے لمبے عرصہ کیلئے قرضے لینا حکومتوں کیلئے اچھا نہیں ہوتا تاہم صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور اب اس میں بہتری آئے گی، نئی گاڑیوں کے اون کا معاملہ کار مینوفیکچررز کو کنٹرول کرنا چاہئے، مشیر صنعت سے کہوں گا کہ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں سے اس معاملہ پر بات کریں، اون کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور اگر یہ لیا جاتا ہے تو اس میں حکومت کی کوتاہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ سعودی عرب کا سالانہ انٹرسٹ ریٹ 3 فیصد ہے، یو اے ای سے بھی اسی طرز پر معاہدہ کیا جا رہا ہے، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کے مثبت اثرات درمیانی مدت میں نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، کم آمدنی والے افراد کیلئے گھروں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کیلئے قرضوں پر ٹیکس ہم نے 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ نان فائلرز اضافی ٹیکس ادائیگی کے ساتھ 1300 سی سی تک گاڑی خرید سکتا ہے لیکن اسے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی زیادہ دینا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں میں فرق کم کرنے کیلئے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں پچھلے مالی سال کے مقابلہ میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، بینکوں سے لین دین کے اعداد و شمار اکٹھے کئے جا رہے ہیں، اس سے ٹیکس وصولی بڑھائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گوشواروں کے نظام کو آسان بنایا جا رہا ہے، پائلٹ پراجیکٹ اسلام آباد سے شروع ہو گا جس کا دائرہ بعد ازاں پورے ملک تک بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کم کرکے قیمتیں نیچے لائے، موبائل فون کارڈز پر ٹیکس وصولی کے رکنے سے بھی ریونیو شارٹ فال ہوا ہے، ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے حوالہ سے صارفین کو ریلیف دیا ہے، رواں مالی سال کے آخری 6 ماہ میں ریونیو کی وصولی بڑھے گی جس سے ہم اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ چین کے ساتھ اقتصادی زون اور دیگر معاملات پر ہماری بات چیت ہوئی ہے اور اس سے ہماری درآمدات بھی اضافہ میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن کا منی بجٹ پر ردعمل

1 COMMENT

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here