گوادر فری زون میں اب تک 30 کمپنیاں 474 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں

فری زون کا ڈویلپمنٹ پیریڈ 2015ء سے 2030ء تک ہے اور یہ چار مرحلوں میں مکمل ہوگا جبکہ اس کا پائلٹ فیز مکمل کیا جا چکا ہے

113

گوادر: گوادر فری زون میں اب تک 30 کمپنیاں 474 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں، یہ فری زون بندرگاہ سے سات کلومیٹر دور ایک چینی کمپنی کی جانب سے تعمیر کیا جا رہا ہے.

فری زون کا ڈویلپمنٹ پیریڈ 2015ء سے 2030ء تک ہے اور یہ چار مرحلوں میں مکمل ہوگا جبکہ اس کا پائلٹ فیز مکمل کیا جا چکا ہے.

فری زون کا کل رقہ 923 ہیکٹر ہے جس میں سے ابتدائی طور پر 25 ہیکٹر ایریا مکمل کیا جا رہا ہے جو بندرگاہ کے مغرب میں واقع ہے. اس کی تعمیر کا بنیادی مقصد یہاں صنعتکاری کا فروغ اور بندرگاہ کی کارگو کپیسٹی بڑھانا ہے.

جنوری 2018ء تک ابتدائی مرحلے میں یہاں بزنس سینٹر، تجارتی و نمائشی ہال ، کولڈ سٹوریج اور گوداموں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ سال یہاں پہلی بین الاقوامی نمائش بھی ہو چکی ہے.

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے موجودہ ائیرپورٹ سے 26 کلومیٹر دور 3 ہزار ایکٹر رقبہ نئے ائیرپورٹ کیلئے مختص کیا ہے جس کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے یہ ائیرپورٹ اوپن سکائی پالیسی کے تحت چلایا جائے گا.

اس منصوبے کی تکمیل سے گوادر معاشی سرگرمیوں‌ کا گڑھ بن جائے گا. ایئرپورٹ کو اے 380 بوئنگ جیٹ جیسے بڑے مسافر طیاروں کے قابل بنایا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے عالمی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جا سکیں.

اس کےعلاوہ مقامی آبادی کو صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے آئندہ کچھ مہینوں میں یہاں چائنا پاکستان فرینڈشپ ہسپتال کی تعمیر بھی شروع ہو جائے گی. گوادر کے شہریوں کو 2 لاکھ گیلن پانی فراہمی کا منصوبہ بھی شروع کیا جا چکا ہے.

گوادر پورٹ کا انتظام 15 فروری 2018ء کو چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے ہاتھ میں دیا جا چکا ہے جبکہ بندرگاہ کی تعمیر کیلئے ضروری سامان کی ترسیل کیلئے جہازوں کی نقل و حمل بھی جاری ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here