گھنٹوں کا سفر اب منٹوں میں ممکن: 2020ء میں ابوظہبی میں دنیا کے پہلے ہائپر لوپ سسٹم کا آغاز ہوگا

منصوبے کے پہلے مرحلے میں ابوظہبی اور دبئی کے درمیان 150 کلومیٹر سسٹم کا 10 کلومیٹر حصہ آئندہ سال تک تعمیر کیا جائے گا۔ اس سے 1123 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنا ممکن ہوگا.

197

دنیا کا پہلا کمرشل ہائپرلوپ سسٹم 2020ء میں ابوظہبی میں کھولا جائے گا جس پر فی کلومیٹر 2 کروڑ ڈالر سے 4 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور یہ 1123 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا.

ہائپرلوپ ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز کے چیئرمین بی باپ گریسٹا نے متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے ‘وام’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ابوظہبی کے ہائپر لوپ کیپسول کو سپین میں اسمبل کرنے کے بعد آزمائشی جانچ کے لیے فرانس کے شہر تولوس بھیج دیا گیا ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں ابوظہبی اور دبئی کے درمیان 150 کلومیٹر سسٹم کا 10 کلومیٹر حصہ آئندہ سال تک تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ شروع میں یہ منصوبہ ایک خواب تھا جو اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ تولوس میں پروٹوٹائپ ٹریک پر ہائپر لوپ کیپسول کو ٹیوب میں رکھ کر پہلے مسافر کے ساتھ اس کی آزمائش کی جائے گی۔

آزمائش اور جانچ کے بعد اسے امارات منتقل کیا جائے گا۔ غیر معمولی رفتار کے حامل اس کیپسول کے زریعہ ابوظہبی کو العین اور دبئی سے منسلک کردیا جائے گا۔ کیپسول کے پوڈزالیکٹرو میگنیٹک لیوٹیشن انجینئرنگ کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ 1123 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے گھنٹوں کے سفر کو منٹوں میں سمیٹ دیں گے۔ ہائپر لوپ تھوڑی مدت میں ہی منافع بخش حیثیت حاصل کرلے گا۔

اس ماس ٹرانزٹ سسٹم کے لئے حکومتی سبسڈی کی بھی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ یہ 8 سے 15 سالوں تک اپنی لاگت کو پورا کرنے کے بعد منافع کمانا شروع کردے گا.

انہوں نے بتایا کہ سفر کے دیگر ہائی سپیڈ ذرائع کے مقابلے میں یہ ہلکا اور توانائی کے استعمال کے حوالے سے کم خرچ ہے۔ بجلی سے چلنے والے اس سسٹم کو فیول کی ضرورت نہیں ہوگی اور ماحول کے اثرات سے بھی یہ محفوظ ہوگا۔ کسی بھی ناگہانی صورت میں یہ سسٹم تین سطحوں کے حفاظتی نظاموں سے لیس ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here