حکومت کا تنخواہ دار طبقے کو حاصل انکم ٹیکس چھوٹ کی حد میں کمی پر غور

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے حکام نے وفاقی کابینہ کو ٹیکس چھوٹ کی حد 12 لاکھ روپے سے کم کرکے 6 لاکھ روپے یا 8 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز دی ہے

582

آمدنی میں کمی پر قابو پانے کیلئے حکومت تنخواہ دار طبقے کو حاصل انکم ٹیکس چھوٹ کی حد میں کمی پر غور کر رہی ہے.

مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے جولائی 2018ء کے الیکشن سے قبل پیش کیے گئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیتے ہوئے 12 لاکھ روہے سالانہ تنخواہ پانے والے پر انکم ٹیکس لاگو کیا تھا.

تاہم ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے حکام نے وفاقی کابینہ کو 23 جنوری کو پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں ٹیکس چھوٹ کی حد 12 لاکھ روپے سے کم کرکے 6 لاکھ روپے یا 8 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز دی ہے.

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس میں چھوٹ دینے اور دیگر وجوہات کی بنا پر حکومت کو ریونیو کولیکشن میں 25 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے اور آئندہ مہینوں میں اس پر قابو پانے کیلئے وزارت خزانہ کے حکام کابینہ کو تجاویز دے رہے ہیں.

ذرائع نے بتایا کہ مہنگائی کے دبائو کی وجہ سے اگر کابینہ مجوزہ انکم ٹیکس چھوٹ کو 23 جنوری کے منی بجٹ میں ختم نہیں بھی کرتی تو اسے آئندہ سالانہ بجٹ میں ضرور ختم کردیا جائےگا. اس حوالے سے حتمی فیصلہ بہرحال وفاقی کابینہ کو کرنا ہے.

رپورٹس کے مطابق سابق حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے موبائل فون کارڈ پر ٹیکس ختم کرنے کی وجہ سے موجودہ حکومت کو ٹیکس آمدن میں خاطر خواہ کمی کا سامنا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here