پی آئی اے کو تباہی سے نکالنے کیلئے نئی حکمت عملی

295

اسلام آباد: حکومت پی آئی اے کی تباہ حالی پر خاصی پریشان رہنے کے بعد اب نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہوگئی۔ پاکستان کی قومی ایئر لائن کو ختم کر کے ایک نئی کمپنی بنانے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ حکومت کے خیال میں 81 ارب کا نقصان پورا کرنا ناممکن ہوگا۔ معیشت ویسے ہی بدحالی کا شکار ہے۔ مزید بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اب یہ فیصلہ کیا گیا کہ بالکل نئی انتظامیہ کے تحت پی آئی اے کو ازسر نو تشکیل دیا جائے جہاں 3 نئے طیارے عملے کے ساتھ حاصل کر کے 6 پرانے روٹ بند اور 7 نئے روٹ کھولے جائیں۔
نئی سرمایہ کاری اور نجکاری کے وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے مطابق پی آئی اے کےلئے 5 سالہ منصوبہ 2019-2023 بناکر مارچ تک حکومت کو پیش کیا جائے گا جس کا نام ”اسٹرٹیجی بزنس پلان“ ہوگا۔ ایئر لائنز کے کسی بھی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا مگر سفارش پر بھرتی کئے ہوئے افراد کی جو کہ اکثر ناکام ثابت ہوئے ہیں چھٹی کردی جائے گی۔ پی آئی اے کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ایئر مارشل ارشد ملک کے پلان کے تحت اخراجات میں کمی، مارکیٹ کے مطابق آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی حکمت عملی، غیر ضروری پروٹوکول کا خاتمہ اور روٹس کی اہمیت کے مطابق کمپنی کو چلایا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو کہ پی آئی اے کے چیئرمین رہ چکے تھے ان کے زمانے میں پی آئی اے زوال پذیر ہوئی۔ ان کے منصب اعلیٰ پر رہتے ہوئے پی آئی اے پر توجہ نہیں دی۔ ایئر فورس فاﺅنڈیشن کی شاہین ایئر لائن آخری سانسیں لے رہی ہے شاہد خاقان عباسی کی ایئر بلو باقاعدگی سے چل رہی ہے۔ اسے تو کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ وہ نئے روٹس کھول رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی ایئر لائن کو خالص تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے۔ بے جا بھرتی کیے لوگوں کی چھٹی کی جائے۔ سوئس ایئر لائن کی مثال موجود ہے۔ تقریباً ایک دہائی پہلے سوئس ایئر لائن ڈوب چکی تھی۔سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے اسے مالی امداد دے کر اس کا نام سوئس کردیا۔ نئی کمپنی آج دنیا میں شہرت کے نئے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ ارشد محمود کا کہنا ہے کہ ایئر لائن آج بھی تقریباً 3 ارب روپے مہینے کا نقصان برداشت کررہی ہے۔ اب تک 431 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور بینک اور دوسرے اداروں کے قرضے شامل کیے جائیں تو 247 ارب کا مزید اضافہ بنتا ہے لیکن اب نئے حکمت عملی کے ذریعے ان نقصانات پر قابو پالیں گے۔ مگر کیسے یہ وہ بتانے سے قاصر تھے۔ اوپن اسکائی پالیسی جسکے تحت بیرونی اور نجی ایئر لائن کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں فضائی رابطہ کر سکے، ختم کردی گئی اس لیے کہ وہ قومی ایئر لائن کے لئے نقصان دہ تھا۔ بیرونی ایئر لائن ایک لمبے عرصے میں ہفتے میں 10,10 پرواز سے بڑھا کر 55 پروازیں کرچکی تھی جن پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔ پی آئی اے یورپ کے شہروں کو اب ایک مختصر روٹس یعنی ایران اور ترکمانستان کے اوپر سے ہوکر جائے گی۔ پرانا روٹ مہنگا ثابت ہوتا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکمت عملی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here