پاکستان کی کاٹن انڈسٹری زوال پذیر کیوں؟

پاکستان کی کپاس کی پیداوار 14.5 ملین بیل سالانہ سے کم ہو کر 11 ملین بیل رہ گئی ہے. پیداوار میں اس کمی کے ذمہ دار بہت سے عوامل ہیں تاہم ٹیکسٹائل ماہرین حکومتی پالیسیوں کو ہی اس کمی کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہیں.

156

عامر جہانگیر کا خاندان پاکستان کی آزادی سے پہلے سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ چلا آ رہا ہے. اس دوران اس فیملی کو تین مرتبہ کاروبار بند کر کے نئے سرے سے شروع کرنا پڑا. تقسیم سے قبل ان کے‌خاندان کا کلکتہ میں ٹیکسٹائل کا بزنس تھا، ازادی کے بعد پاکستان آئے تو کاروبار کلکتہ میں چھوڑنا پڑا، ڈھاکہ میں رہائش پذیر ہو کر پرانا دوبارہ نئے سرے سے شروع کیا تاہم 1971ء میں جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو ایک بار پھر کاروبار ٹھپ ہو گیا.

خاندانی کاروبار 1987ء میں ایک بار پھر کچھ معاشی وجوہات کی بنا پر بند ہوا جسے بعد ازاں دوبارہ کھڑا کیا گیا، اس وقت عامر جہانگیر لاہور کے ایچی سن کالج میں پڑھتے تھے، ان کے والد نے تاج ٹیکسٹائل مل کے نام سے ایک سپننگ مل لگائی جو کچھ عرصہ چل کر بند ہو گئی.

منافع کو اپنے انٹرویو کے دوران عامر جہانگیر نے بتایا کہ کوئی بھی مینو فیکچرنگ کمپنی چلانا ایک مشکل کام ہے، ہمیں سرمایہ کے مسائل کا سامنا تھا، ایک سپننگ مل چلانے کیلئے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے.

پاکستان میں کاٹن سیکٹر سے وابستہ افراد کو ایسے مسائل غیر معممولی نہیں ہیں، سالہا سال سے کئی مل مالکان کے کاوربار بند ہو سکے ہیں جبکہ ان کسانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کپاس کی فصل چھوڑ کر گندم یا گنے جیسی منافع بخش فصلیں کاشت کر رہے ہیں جس سے انہیں زیادہ فائدہ ہے.

تاہم ایسا لگتا ہے کہ عامر جہانگیر نے اس مسئلے سے نبرد آزما ہونے کیلئے بھی طریقہ ڈھونڈ لیا ہے. صرف مینو فیکچرنگ پر توجہ دینے کی بجائے 2007ء میں انہوں نے کاٹن کی تجارت شروع کی اور آج ان کا بروکریج ہائوس ملک کی قریباََ 3 فیصد کاٹن سنبھالتا ہے. اس حوالے سے عامر جہانگیر کا کہنا تھا کہ پورے سیزن کے دوران ہم قریباََ 4 لاکھ گانٹھوں کی تجارت کرتے ہیں جس کی اندازاََ قیمت 12 ارب روپے ہوت ہے.

انہوں نے بتایا کہ بہت سے مل مالکان تجارت کی طرف آگئے ہیں، ان میں سے اکثر اپنی سرمایہ کاری ملک سے باہر لے گئے جس سے پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر مزید کمزور ہوچکا ہے. اسی وجہ سے کپاس کے کاشتکاروں اور مینوفیکچررز پر تاجروں کی مارکیٹ پاور میں اضافہ ہو رہا ہے اور کسان کی مراعات مزید سکڑ رہی ہیں.

تاجروں کا نقطہ نظر

پاکستان کی کپاس کی پیداوار 14.5 ملین بیل سالانہ سے کم ہو کر رواں سال 11 ملین بیل رہ گئی ہے. پیداوار میں اس کمی کے ذمہ دار بہت سے عوامل ہیں تاہم اچھے اورپیشہ ور ٹیکسٹائل ماہرین کی طرح عامر جہانگیر بھی حکومت کو ہی اس کمی کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہیں.

مل مالکان عام طور پر جنرز کے خلاف مارکیٹ پاور استعمال کرتے ہیں اور قیمتوں کے تعین میں عموماََ انہیں سبقت رہتی ہے کیونکہ وہ خریدار ہوتے ہیں تاہم عامر جہانگیرکی طرح کاٹن بروکر جو جنرز سے کپاس خرید کر ملوں کو فروخت کردیتے ہیں اکثر وہ ملوں سے زیادہ منافع حآصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. عامر نے بتایا کہ اگر ایک بروکر 2 ہزار گانٹھیں بیچے جن میں سے ہر ایک کی قیمت 35 سے 36 ہزار روپے ہوتی ہے اور اگر فی گانٹھ ایک سو رپے بھی زیادہ لے رو بآسانی وہ دو لاکھ روپے زیادہ کما سکتا ہے.

اسی طرح بڑی ملوں کے مقابلے میں چھوٹی ملوں کو ایک نقصان ہوتا ہے. عامر جہانگیر کا کہنا تھا کہ بڑی سپننگ ملوں کا زیادہ منافع دراصل بنیادی مینو فیکچرنگ منافع نہیں ہوتا بلکہ کاروباری منافع ہوتا ہے. اس صنعت میں صرف وہ لوگ سروائیو کر سکتے ہیں جو بڑی سپننگ ملیں چلا رہے ہیں کیونکہ وہ مینوفیکچرنگ منافع سے زیادہ تجارتی منافع حاصل کرتے ہیں. بنک بھی بڑی ملوں کو زیادہ کریڈٹ دیتے ہیں کیونکہ وہ ایک سال کیلئے زیادہ سے زیادہ کپاس خرید لیتے ہیں. اس کے برعکس چھوٹی ملیں جو روزانہ کی بنیاد پر کپاس خریدتی ہیں وہ نقصان اٹھاتی ہیں اور ان کی اوسط قیمت بڑی ملوں کے کا مقابلہ نہیں کر پاتی. ایک حد تک ہر شخص مینو فیکرنگ پرافٹ حاصل کرسکتا ہے.

قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں بے شمار سپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں. جہانگیر کے مطابق 40 کے قریب ملیں بند ہو چکی ہیں، انکا کہنا تھا کہ سپننگ ایک ایسا کاروبار ہے کہ اگر ایک بار بند ہو جائے تو دوبارہ کھڑا کرنا بے حد مشکل ہے.

چیئرمین پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن جواد اصغر جو کہ فیصل آباد میں ملک کی سب سے بڑی دھاگا مارکیٹ کے سربراہ بھی ہیں، وہ بھی ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی دھندلی تصویر ہی پیش کرتے ہیں.

جواد اصغر کہتے ہیں کہ پاکستان میں تیار ہونے والا 50 فیصد سے زائد دھاگا یہاں سوتر منڈی میں فروخت ہوتا ہے. اس لیے یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے. تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہماری درآمدات گر چکی ہیں، ہم چین اور دیگر ممالک کو دھاگا بیچتے تھے جو اب بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ پر دبائو بڑھ رہا ہے. مارکیٹ میں مقامی تیار شدہ سوت کافی مقدار میں موجود ہے اس کے باوجود ہم بھارت اور چین سے سوت منگواتے ہیں کیونکہ ان کا سوت پاکستانی کی نسبت سستا ہے.

آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں جواد اصغر کا کہنا تھا کہ چین اور بھارت میں گیس اور بجلی سستی ہے، خام مال کی قیمتیں کم ہیں، وہاں حکومتیں سبسڈی اور ٹیکسوں‌ میں چوٹ دیتی ہیں، اسی لیے چین اور بھارت کا پیدا کردہ سوت سستا ہے.

یہی مسئلہ کسانوں کو درپیش ہے، ان کیلئے بھی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، یوریا کی قیمت کبھی 1200 روپے تھی جو اب 1700 میں ملتی ہے.

اسی سوتر منڈی میں ایک دوسرے تاجر جاوید گرتی ہوئی برآمدات کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ افغانستان کیساتھ سرحد بند ہونے کی وجہ سے پاکستان میں تیار ہونے والی ٹیکسٹائل مصنوعات گوداموں میں پڑی رہ جاتی ہیں. دوسرے ممالک کو برآمدات بھی کافی حد تک کم چکی ہیں.

پاکستان اس وقت چین، بھارت اور امریکا کے بعد کپاس کا چوتھا بڑا عالمی کاشتکار ہے، تاہم حالیہ سالوں‌ کے دوران پیداوار میں کمی ہوئی ہے. گزشتہ پانچ میں سے کپاس کی پیداوار 14 فیصد کم ہو کر 13.86 ملین بیلز سے 11.98 ملین بیلز تک آ گئی، اسی طرح کپاس کی برآمدات 2012ء میں 5 ارب ڈالر تھیں وہ 2017ء میں کم ہو کر 3.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں. اس کے برعکس اسی مدت کے دوران دوسرے ملکوں سے کاٹن کی امپورٹ میں 700 ملین ڈالر سے 974.98 ملین ڈالر تک اضافہ ہوا.

حکومت درآمدی کاٹن پر 5 فیصد ڈیوٹی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے جس سے اس کی درآمد میں مزید اضافہ ہو گا. ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے کپاس، گندم اور گنے کے ایک کاشتکار بلال اسرائیل نے بتایا کہ درآمدی کاٹن کی کم قیمت کی وجہ سے مقامی کپاس کی قیمت بھی کم ہو جائے گی، جس کا کسانوں پر برا اثر پڑے گاکیونکہ مقامی کپاس کی قیمت درآمدی کپاس کے بمشکل قریب قریب ہے، اگر مقامی کپاس کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ٹیکسٹائل ملز درآمدی کپاس کو ہی ترجیح دیں گی. تاہم کسٹم ڈیوٹی کم ہونے کا ٹیکسٹائل انڈسٹری پر اچھا اثر پڑے گا کیونکہ وہ سستا خام مال خرید سکیں گے.

بلال نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کسان اس کو چھوڑ کر دیگر فصلیں زیادہ کاشت کرنے لگا ہے، حالیہ سالوں میں کپاس کی بجائے مکئی، گندم اور گنے کی قیمتیں بہتر رہی ہیں جس کی وجہ سے کپاس کا زیر کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے.

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے اندازے کے مطابق پاکستان میں کپاس کی کاشت میں 27 فیصد کمی ہوئی ہے جس میں 17 فیصد وہ رقبہ بھی شامل ہے جو 2014-15ء میں کپاس کے زیر کاشت تھا.

سوتر منڈی کے ایک تاجر جاوید کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں کہ جب کپاس خریدنے کیلئے کوئی انڈسٹری ہی نہیں‌تو کسان کپاس کیوں کاشت کریگا؟ وہ کپاس سستی بیچنے کی بجائے کوئی اور منافع بخش فصل کاشت کرنے کو ترجیح دے گا.

کاشتکار بلال اسرائیل کیمطابق گنے کی فصل کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور نہری نظام سے کسانوں کو پانی کافی رعایتی قیمت پر مل جاتا ہے، اس لیے گنے کی قیمتیں دیگر فصلوں کے مطابق ہی ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے کسان گنے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں.

تاہم حالیہ خریف کا سیزن خود بلال کیلئے اچھا نہیں رہا، انہوں‌نے بتایا کہ وہ پنجند سے آنے والی عباسیہ نہر سے پانی حاصل کرتے ہیں، جب یہ چولستان سے گزرتی ہے تو وہاں پانی چوری کرلیا جا ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں پانی ہم تک نہیں پہنچ پاتا. انہوں نے بتاای کہ وہ اس سال پانی کی کمی کی وجہ سے میں گنے یا کپاس کی کاشت ہی نہیں‌کرسکے. نہر میں کم و بیش 106 غیر قانونی جگہوں سے پانی چوری کیا جا رہا ہے.

انکا کہنا تھا کہ ضلع رحیم یار خان میں پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت تباہ ہو رہی ہے، عباسیہ نہر سے ہمارا حصہ 1900 کیوسک ہے تاہم ہمیں محض 554 کیوسک پانی دیا جا رہا ہے. میری اپنی کپاس کی فصل پر برا اثر پڑا ہے.

اپٹما کے مطابق پاکستان میں 2014-15ء کے دوران کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں 12 فیصد کمی ہوئی جبکہ بھارتی پنجاب میں پیداوار ہم سے 50 فیصد زیادہ ہے. اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کپاس کے نئے اور زیادہ پیداوار کے حامل بیج پر تحقیق میں سرمایہ کاری میں ناکام رہا ہے.

اب پاکستان میں 97 فیصد تک بی ٹی کاٹن پیدا ہوتی ہےتاہم یہ فرسٹ جنریشن ٹیکنالوجی غیر قانونی طور پر پاکستان میں 2005ء میں آئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وقت کیساتھ اس کا اثر ختم ہو گیا اور کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں‌ میں اس کے خلاف مدافعت پیدا ہو گئی اور پاکستانی کسان اس سے مکمل فائدہ نہ اٹھا سکا.

”منافع” سے بات کرتے ہوئے ایک زرعی ماہر نے بتایا کہ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ مائکروسافٹ ونڈوز کی فیک کاپی خریدیں اور پھر وہ اپ ڈیٹ نہیں ہو سکتی. اس لیے آپکو مناسب انتظامات کرنے کی ضرورت ہے.

بی ٹی کاٹن نے دنیا میں انقلات برپا کیا اور ناصرف پیداوار زیادہ ہوئی بلکہ کسانوں کے سرمائے میں بھی اضافہ ہوا. بین الاقوامی سطح پر بی ٹی ٹیکنالوجی کی تھرڈ جنریشن لانچ کی جا چکی ہے تاہم انٹلکچوئل پراپرٹی کے کمزور قوانین کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں نہیں لائی جا سکی.

ایگریکلچر ٹیکنالوجی کے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ کئی کسانوں کے پاس زمین کی ملکیت نہیں، نا ہی انہوں نے زرعی تعلیم حاصل کی ہے اور پھر سسٹم کی نگرانی کا کوئی نظام نہیں ہے. پاکستان میں انٹلکچوئل پراپرٹی کو تحفظ بھی حاصل نہیں. جب 2005ء میں غیر قانونی طور پر بی ٹی ٹیکنالوجی کی پہلی جنریشن ملک میں لائی گئی تو ہر کوئی اس کو استعما ل کر سکتا تھا. اسی لیے ٹیکنالوجی کی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتی ہیں حالانکہ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے.

کوالٹی کے معاملات

پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس کی صرف مقدار کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا معیار بھی اسے دنیا بھر میں پیدا ہونے والی کپاس سے پیچھے رکھتا ہے. ملک میں اگر پیداوار بڑھ بھی جائے تو بھی کپاس درآمد کرنا پڑے گی. عامر جہانگیر کہتے ہیں کہ بھارتی کپاس ہمارے سے اس لیےبہتر ہے کیونکہ وہ لمبے ریشے ہوتی ہے اور ہم لمبے ریشے والی کپاس پیدا نہیں کر رہے، ہمارے یہاں کپاس کے معیاری بیچ پیدا کرنے کیلئے کبھی تحقیق نہیں کی گئی.

کپاس کا معیار بہت حد تک بیچ کے معیار پر منحصر ہوتا ہے. ایک زرعی ماہر نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ مارکیٹ مین جس بیج کی ڈیمانڈ ہے اس کی پیداوار کیلئے کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہے. روایتی طور پر کسانوں کے پاس جو بیج سالہا سال سے چلتے آ رہے تھے وہی وہ اب تک استعمال کر رہے ہیں. تاہم بات پھر وہ ہی آتی ہے کہ انٹلکچوئل پراپرٹی کو تحفظ حاصل نہیں ہے، حکومت کو ااس سے متعلق قوانین مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016ء کو آپریشنل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری اور نجی شعبے کے محققین کپاس کے بیج کی مختلف اقسام تیار کر سکیں.

انہوں کا کہنا تھا کہ کوئی شخص اس طرح ریسچ کرنے کو تیار نہیں ہو گاجب اسے پتا ہوگا کہ جیسے ہی وہ کوئی چیز تیار کرے گا اسکی کاپی تیار کر لی جائے گی.

کپاس کی چنائی اور اس کے بعد سنبھالنے کے روایتی طریقوں کی وجہ سے خام کپاس کی کوالٹی میں بھی فرق پڑا ہے، چنائی کے بعد ایک سے دوسری جگہ لیجاتے ہوئے کپاس میں بہت سی فالتو چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جو اس کی کوالٹی کو خراب کر دیتی ہیں. ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم چنائی کیلئے مناسب سامان استعمال کرنے کی بجائے ہاتھوں سے چنائی کو ترجیح دیتے ہیں.

جب کسانوں اور چھوٹے فیکٹری مالکان کو نقصان ہوتا ہےئ بڑے مل مالکان اس وقت بھی منافع کما رہے ہوتے ہیں. عامر جہانگیر نے دعویٰ کیا کہ ان کی کپاس کا تجارتی حجم ہر سال 30 فیصد بڑھ رہا ہے. تاہم اگر پیداوار میں کمی جاری رہی اور حکومتی پالیسیاں زرعی شعبے کے برعکس ہی رہیں تو بہت حد تک امکان ہےکہ مستقبل میں اس سیکٹر میں شرح نمو کم ہو جائےگی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here