کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بڑے منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کیلئے جے سی سی کے سمانے پیش

ان منصوبوں میں کے پی ٹی سے پورٹ قاسم تک ملٹی بلین ڈالر فریٹ کوریڈور اور کراچی پورٹ پر سپیشل اکنامک زونز شامل ہیں

416

کراچی: کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے کچھ بڑے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے.

انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کے مطابق سرکاری ذرائع نے کہا کہ سیکریٹری بحری امور عامر خواجہ نے گزشتہ ماہ بیجنگ میں منعقدہ آٹھویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں‌شرکت کی جہاں انہوں نے کراپی پورٹ ٹرسٹ کے کچھ بڑے منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کیلئے اجلاس کے سامنے پیش کیے.

وزارت بحری امور کے ایک افسر نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر ان منصوبوں کی تفصیلات بتائیں. ان منصوبوں میں کے پی ٹی سے پورٹ قاسم تک ملٹی بلین ڈالر فریٹ کوریڈور اور کراچی پورٹ پر سپیشل اکنامک زونز شامل ہیں.

ذرائع کےمطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی ان تجاویز کی توثیق کی.

دوسرے فیز کے دوران جوائنٹ ورکنگ گروپ کے مارچ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ان منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائےگا.

سرکاری عہدیداروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فریٹ کوریڈور کے سی پیک میں شمولیت سے کراچی پورٹ اور کیماڑی پر پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ کیساتھ رابطہ ممکن ہو سکے گا کیونکہ اب زیادہ تر ٹریفک بندرگاہ سے شہر کے راستے جاتی ہے جس سے شہر میں ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں.

عامر خواجہ نے جو دوسرا منصوبہ سی پیک میں شامل کرنے کے لیے پیس کیا وہ کراچی پورٹ کے مشرقی گھاٹ (جہاں جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں) کا مغربی گھاٹ کیساتھ سڑک کے ذریعے رابطہ ہے تاکہ بندرگاہ کی حدود کے اندر ہیوی وہیکلز کی نقل و حرکت بآسانی ہو سکے.

گہرے پانی کے ٹرمینل کے افتتاح کے بعد سے لیکر یہ رابطہ کاری ایک رکاوٹ بنی ہوئی تھی.

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے 13 سال قبل پندرگارہ کو براہ راست ناردرن بائی پاس کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے پر غور شروع کیا تاکہ باقی ملک کیساتھ ٹرانسپورٹ لنک آسان کیا جاسکے تاہم یہ ایک ارب ڈالر کا منصوبہ کافی مہنگا ہونے کی وجہ سے قابل عمل نہ ہوسکا.

پلان بی یہ تھا کہ پل کے طور پر ایک ایکسپریس وے کیماڑی سے ناردرن بائی پاس تک تعمیر کی جائے جسے جناح برج کے اوپر سے گزارا جائے، اس منصوبے کی لاگت 500 ملین ڈالر تھی تاہم فنڈز کی کمی کے باعث منصوبے بھی الماریوں تک محدود رہا.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here