پیکجز لمیٹڈ لیز پر لی گئی زمین سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے کوشاں

پیکجز لمیٹڈ کی فیکٹری کیلئے لیز پر لی گئی زمین کا معاہدہ 2015ء میں ختم ہو چکا ہے، ہفتہ کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 50 کروڑ روپے لیز کی رقم ادا کرے

337

لاہور: پیکجز لمیٹڈ نے کہا ہے کہ لیز پر حاصل کردہ زمین سے متعلق سریم کورٹ کی جانب سے ہفتہ کے روز دیے گئے آرڈرز کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں.

سوموار کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹیفکیشن میں پیکجز لمیٹڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 231 کنال اور 19 مرلہ زمین لیز پر لینے سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ سے لی جا رہی ہیں اور جلد ہی سٹاک ایکسچینج کو اصل تفصیلات سے آگاہ کردیا جائے گا.

پیکجز لمیٹڈ کی فیکٹری کیلئے لیز پر لی گئی زمین کا معاہدہ 2015ء میں ختم ہو چکا ہے، ہفتہ کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 50 کروڑ روپے لیز کی رقم ادا کرے.

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں‌ معاملے کی سماعت کی.

عدالت نے فیصلہ کیا کہ زمین مزید لیز پر نہیں دی جائے گی بلکہ اس کی نیلامی کی جائے گی اور پیکجز لمیٹڈ کو نیلامی کے عمل میں ترجیح دی جائےگی.

چیف جسٹس نے اس وقت حیرت کا اظہار کیا جب انہیں پتہ چلا کہ لیز ختم ہونے کے بعد ایک پیسہ بھی جمع نہیں کرایا گیا.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ ملکی قانون ہے؟ لیز کی تجدید کے ذمہ داروں نے کچھ نہیں‌کیا، یہ غریب لوگ (پیکجز لمیٹڈ) ایماندارہیں جو خود ہی پیسے دینے آ گئے.

چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید کو سارا معاملہ شروع سے آخر تک واضح کرنے کا حکم دیا.

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پیکجز لمیٹڈ کو یہ زمین 1955ء سے 1985ء تک لیز پر دی گئی، 6 جولائی 2015ء کو اس نے بورڈ آف ریونیو سے لیز میں مزید توسیع مانگی اور 2017ء میں بورڈ کو تمام متعلقہ دستاویزات دی گئیں.

چیف جسٹس نے عدالت میں موجود بورڈ آف ریونیو کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے تاخیر کا سبب پوچھا. چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈی جی نیب کہاں ہیں؟ اگر منشاء بم کو پکڑ سکتے ہیں تو کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں چاہے وہ کتنا ہی معزز کیوں‌ نہ ہو.

بورڈ آف ریونیو کے افسر (ممبر کالونیز) نے بتایا تسلیم کیا کہ کافی تعداد میں درخواستیں زیر التواء ہیں، انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے مطابق سرکاری زمین مزید لیز پر نہیں دی جا سکتی. اس سے قبل سرکاری زمین کی لیز سے متلعق کوئی پالیسی نہیں تھی اور یہ معاملہ صوبائی وزراء (قانون، ریونیو اور خزانہ) پر مشتمل کمیٹی کے پاس فیصلے کیلئے پڑا رہا.

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مذکورہ کمیٹی کا مینڈیٹ کیا تھا؟ 2015ء سے لیکر ایک پیسہ وصول نہیں کیا گیا، اس وقت وزراء کون تھے؟

بوڑد آف ریونیو کے افسر نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ وزیر قانون اور عائشہ غوث پاشا وزیر خزانہ تھیں. نئی پالیسی متعارف کروانے کے بعد وزیراعلیٰ کو معاملے کا جائزہ لینے کیلئے کابینہ کا اجلاس بلانے ایک درخواست ارسال کی گئی تھی.

عدالت نے لیز ختم کرتے ہوئے پیکجز لمیٹڈ کو 5 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here