گزشتہ حکومت نے پی ٹی سی ایل نجکاری معاہدے میں غائبانہ جائیدادوں کو بھی بیچ ڈالا

273

سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ’پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے لیے 2006 میں اتصالات سے معاہدہ ہوا اور معاہدے کے تحت پی ٹی سی ایل کی 3 ہزار 384 جائیدادیں اتصالات کے حوالے کی جانی تھیں۔’
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ 2006 میں ‘پی ٹی سی ایل’ کی نجکاری کے معاملے پر ’جھوٹا‘ معاہدہ کیا گیا جس کے نتیجے میں غیر ملکی کمپنی اتصالات نے 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی روک دی۔
انہوں نے بتایا کہ ’پی ٹی سی ایل کے پاس صرف 3 ہزار 248 جائیدادیں ہیں جبکہ 48 اثاثوں کا وجود ہی نہیں جنہیں معاہدے کا حصہ بنایا گیا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں ’بے ضابطگیوں‘ کے بعد اتصالات کمپنی نے تمام امور اور ادائیگیاں روک دی۔
نجکاری کمیشن کے سیکریٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ ’چائنا موبائل نے پی ٹی سی ایل کے لیے ایک ارب 40 کروڑ اور اتصالات نے 2 ارب 60 کروڑ ڈالر بولی دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے لیے مارچ 2006 میں اتصالات سے معاہدہ ہوا۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اتصالات نے 79 کروڑ 90 لاکھ کی منتقلی کا عمل روک دیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کو ادائیگیاں کرنے کے لیے ادارے کو 15 جنوری تک کی مہلت دے دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here