پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، رواں مالی سال میں حکومت نے 187 ارب روپے خرچ کیے

کامرس، بین الصوبائی رابطہ اور مذہبی امور ڈویژنز کو مالی سال 2018-19 کے دوران کوئی فنڈز جاری نہیں‌کیے گئے

194

اسلام آباد: حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر اب تک 187 ارب روپے خرچ کیے ہیں‌جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے حاصل کی گئی 57.4 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے.

وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات کی جانب سے حال ہی میں‌ریلیز کیے جانے والے ڈیٹا کے مطابق حکومت نے 291.55 ارب روپے کے مختص ترقیاتی بجٹ میں سے محض 79.06 ارب روپے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے گئے اور اس میں بھی 6 ارب روپے غیر ملکی امداد سے خرچ کیے گئے.

حکومت کی جانب سے تاحال کامرس، بین الصوبائی رابطہ اور مذہبی امور ڈویژنز کیلئے کوئی فنڈز جاری نہیں‌کیے گئے.

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے کل بجٹ 185.2 ارب روپے جس میں 43.5 ارب روپے بیرونی امداد بھی شامل تھی میں سے ترقیاتی کاموں پر صرف 81.26 ارب روپے خرچ کیے گئے.

پاکستان ریلوے کے 28.065 ارب روپے بجٹ میں سے ترقیاتی منصوبوں پر 8.1 ارب روپے خرچ کیے گئے.

آبی وسائل ڈویژن کے مختص بجٹ 78 ارب ڈالر میں سے 17 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ اس میں 4.7 ارب روپے بیرونی امداد بھی شامل تھی.

اس کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کے مختص بجٹ 30.96 ارب روپے میں حکومت نے مختلف پراجیکٹس پر قریباََ 11.81 ارب (بشمول 60.72 ملین روپے بیرونی امداد) خرچ کیے.

اور 4.3 ارب روپے داخلہ ڈویژن، 2.78 ارب روپے مواصلات ڈویژن (نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے علاوہ) اور 598.967 ارب روپے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کو جاری کیے گئے.

نیشنل ہیلتھ سروسز اور ریگولیشن اینڈ کوآرڈی نیشن ڈویژن کو 12.78 ارب میں سے صرف 1.4 ارب روپے جاری کیے گئے.

اسی طرح منصوبہ بندی ڈویژن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے بالترتیب 1.78 ارب اور 7.2 ارب جاری کیے گئے.

کابینہ ڈویژن کے کل بجٹ ایک ارب روپے میں سے حکومت نے 207.3 ملین روپے خرچ کیے. جبکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترقیاتی منصوبوں پر 10.18 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ اس کا کل بجٹ 26.7 ارب روپے تھا.

ایوی ایشن ڈویژن کو 443.5 ملین روپے، کلائمیٹ چینج ڈویژن کو 540 ملین روپے ملے جبکہ ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن نے 1.091 ارب روپے کے اخراجات کیے.

ساحلی امور ڈویژن کو 674.29 ملین ترقیاتی کاموں کیلئے ملے جبکہ ریونیو ڈویژن نے 449.73 ملین خرچ کیے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here