سیونگ اسکیموں پر منافع کی شرح 6 سال کی بلند ترین سطح پر

137

سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) نے منگل کے روز تمام قومی سیونگ اسکیمز پر منافع کی شرح کو بڑھا دیا ہے تاکہ حکومت سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرسکے.
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شرح سود میں مسلسل اضافے کے پیش نظر سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے تمام قومی سیونگ اسکیمز پر منافع کو 2.74 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔نئے قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2019 سے ہونے والی ڈپازٹ اور سرمایہ کاری پر ہوگا۔گزشتہ سال 30 جون سے اب تک یہ 5ویں مرتبہ قومی بچت کے منافع کو بڑھایا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق وزارت خزانہ کے اندر کام کرنے والی سی ڈی این ایس نے ڈیفنس سیونگ سرٹفکیٹ (ڈی ایس سی) کے منافع کو 10.03 فیصد سے 12.47 فیصد کردیا ہے جو 30 جون کو 8.10 فیصد پر تھی۔اسی طرح بہبود سیونگ سرٹفکیٹس، پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کا منافع بھی 11.88 فیصد سے 14.28 فیصد تک بڑھادیا گیا ہے جو گزشتہ سال جون میں 10.8 فیصد تھی۔ریگولر انکم سرٹفکیٹس پر مجموعی سرمایہ کاری کا منافع بھی 9.72 فیصد سے 12 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے جو گزشتہ سال جون 30 کو 7.63 فیصد پر تھی۔ اسپیشل سیونگ سرٹفکیٹ اور اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی شرح 8.60 فیصد سے 11.40 فیصد کردی گئی ہے جو گزشتہ سال جون میں 6.60 فیصد تھی۔3 سے 12 ماہ کی مدت کے سیونگ سرٹی فکیٹس پر بھی منافع کو 8.48 فیصد سے 9.98 فیصد کردیا گیا ہے جو جون میں 5.92 فیصد تھی۔اسی طرح سیونگ اکاؤنٹ پر 7 فیصد کے بجائے 8.5 فیصد منافع حاصل ہوگا جو جون میں 4.5 فیصد تھا۔سی ڈی این ایس نے تبدیل شدہ منافع کی شرح کا پرچہ تمام مقامی دفتروں کو بھجوادیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ منافع کی شرح کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 30 نومبر 2018 کو اعلان کردہ بینچ مارک شرح سود کو 8.5 سے 10 فیصد بڑھانے کے پیش نظر کیا گیا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here