روپے کی قدر گر رہی ہے۔ اسے گرنے دیا جائے

اگر روپے کی قدر گر رہی ہے تو حکومت کو اس گراوٹ کو روکنے میں مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔

4468

1968ء میں بنائی جانے والی ہالی ووڈ ’’دی لائن ان ونٹر (The Lion in Winter)‘‘ میں برطانیہ کا بادشاہ ہینری دوم اپنے تینوں بیٹوں سے خوفزدہ تھا جو اس کے خلاف بغاوت کی سازش کر رہے تھے اور اسے غداری کے الزام میں قید میں ڈالنا چاہ رہے تھے۔ جب ہینری نے اپنے بیٹوں کو گرفتار کر لیا تو وہ اپنے باپ سے خوفزدہ تھے کہ وہ انہیں موت کی سزا سنا دے گا۔ فلم کے ایک اختتامی منظر میں قید خانے میں تینوں بیٹے یہ سوچ رہے تھے کہ انہیں بادشاہ ہینری دوم کے قدموں کی آواز آئی جو انہیں موت کی سزا سنانے آرہا تھا۔
شہزادہ رچرڈ جو برطانیہ کی سلطنت کا اگلا سلطان بننے جا رہا تھا نے کہا کہ ’’وہ یہاں آگئے ہیں۔ وہ مجھ پر رحم نہیں کریں گے۔‘‘
دوسرے بیٹے شہزادہ جیوفری نے طنزیہ کہا کہ ’’میرے بہادر اور بیوقوف بھائی جب صرف زوال ہی آنا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
شہزادہ رچرڈ نے جواب دیا’’اگر صرف زوال ہی آنا ہے تو فرق پڑتا ہے‘‘۔
روپے کی قیمت گر رہی ہے اور نازک صورتحال ایسی کہ افراط زر کا خدشہ پیدا ہوگیا اور عام صارف کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے ملکی معاشی بدحالی کے اثرات جھیل رہا ہے۔ جس بات کو کم سراہا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ سب ماہرین معاشیات نہیں تو ایک مخصوص مکتبہ فکر کا نظریہ ہے کہ اگر روپے کی قدر گر رہی ہے تو حکومت کو اس گراوٹ کو روکنے میں مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔
اس نظریے کو ناقدین کا بھی سامنا ہے جو کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ افراط زر کا پیش خیمہ ہے جس کا خمیازہ غریب آدمی کو بھگتنا پڑے گا اور حکومت اس گراوٹ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
اس نظریے میں خامی یہ ہے کہ کافی غور و بحث کے بعد بھی ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں موجود سقم دور نہیں کئے جاسکے اور نہ پالیسی بنانے والوں کی سوچ کو بہتر کیا جاسکا ہے۔ اس میں کچھ سقم تو ایسے ہیں جو تقسیم ہند سے اب تک چلتے آرہے ہیں۔ جیسے تیسے کرکے حکومت زرمبادلہ کو کنٹرول کرکے ملک کی معیشت کو صحیح راہ پر لا نے کیلئے کوشاں ہے۔
جب حکومت کو علم ہوا کہ بیرون ملک زرمبادلہ کے ذخائر (جو پاکستان کے پاس کچھ بھی شروع کرنے کیلئے ناکافی ہے) روپے کی قدرکو مستحکم کرنے کیلئے ناکافی ہیں اور حکومت کی مختلف ذرائع اور وسائل بروئے کار لا کر روپے کی قیمت کو مستحکم کرنے کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں تو روپے کو گرنے دیا سہل نہیں لیکن معزز اور اچھے طریقے سے۔
کیوں حکومتیں اس قسم کی اندرونی پالیسی کا انتخاب کرتی ہے یہ اپنے طور پر ایک سوال ہے۔ تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ کچھ ماضی کے واقعات اس پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں۔
ایک خوفناک خیال کی تاریخ
18 ستمبر 1949ء کو برطانیہ کے بینک نے ایک یادگار فیصلہ کیا جس نے پے درپے واقعات کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
اس دن برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ پاؤنڈ کی قدر میں 30 فیصد کمی کر رہا ہے۔ ان دنوں میں جب امریکی ڈالر پہلے ہی عالمی معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم کر چکا تھا کئی سابق برطانوی نوآبادیاں برطانوی پاؤنڈز کو ہی رائج کئے ہوئے تھے ۔ جب برطانوی بینک نے ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر گھٹا دی تو بھارت کی حکومت نے بھی اس کی تقلید کی لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا (جو شاید ایک بڑی اور یادگار غلطی تھی)۔
حکومت پاکستان نے اس وقت محسوس کیا کہ پاکستان کو روپے کی قدر گھٹانی نہیں چاہئے کیونکہ انہیں لگا پاکستان کی اپنی معاشی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کوئی مثبت اقدام نہ تھا۔ تاہم اس فیصلے نے پاکستان کی اقتصادیات پر سنگین منفی اثرات مرتب کئے۔
13 اگست 1947ء تک پاکستان کی 60 فیصد سے زائد تجارت بھارت کے ساتھ تھی۔ تقسیم ہند کے بعد تمام اقتصادی رابطے ایک رات میں ختم نہیں ہوئے اور یہ ملکی تجارت عالمی تجارت بن گئی۔
تاہم 1949ء میں جب برطانیہ نے اپنی کرنسی گھٹائی اور پاکستان نے ایسا نہیں کیا تب اچانک پاکستانی اجناس اپنے مقابل بھارت سے 30 فیصد زیادہ مہنگی ہوگئیں۔ اس سے پاکستانی اجناس اور سہولیات اس دوڑ سے باہر ہونا شروع ہوگئیں اور بھارتی منڈی میں پاکستان کا حصہ گھٹنا شروع ہوگیا۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی برآمدی منڈی سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔ اس کی وجہ 1965ء کی جنگ نہیں جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر کئی قانونی پابندیاں نافذ کیں بلکہ اس سے3 دہائیوں قبل بھارت کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قدر نہ گھٹانے کا فیصلہ تھا۔ دونوں ممالک ایک ہی مرکزی بینک سے رجوع کرتے تھے اور ابتدائی 2 سالوں میں ایک ہی کرنسی کا استعمال کرتے تھے۔ یہ فیصلہ پاکستان کیلئے بالکل ناگزیر نہیں تھا کہ پاکستان کرنسی ریٹ کو روکے رکھتا۔
اپنی کرنسی کی قدر کو روکے رکھنے کا فیصلہ پاکستان کی معیشت کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوا خاص طور پر ملک کی برآمدات پر اس کا اثر پڑا۔ حکومت پاکستان اپنی اقتصادی روایات کو بالکل تبدیل کردیا۔ علاقائی تجارتی برادری کا حصہ بننے کی بجائے پاکستان اب کئی علاقائی منڈیوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور کئی دہائیوں سے برآمدات کے شعبے میں ترقی کی رفتار سست ہوچکی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان کو روپے کی قدر میں گراوٹ کرنی ہی پڑی۔ اگست 1955 میں صرف ایک ہی دن میں پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 44.2 فیصد کم ہوگئی۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ پاکستانی روپے کو بھارتی کرنسی کے برابر رکھا جائے تاکہ اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ مساواتی تجارت ہوسکے۔
حکومت روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں کامیاب نہ ہوئی اور اس کی اقتصادی برابری گھٹنا شروع ہوگئی۔
اقتصادی رابطے جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھے اب مکمل ختم ہوگئے اور پاکستان اور بھارت کی عالمی تجارت میں راہیں الگ ہوگئیں۔ پاکستان بریٹن ووڈز کے مقرر کردہ شرح زرمبادلہ کا حصہ بنا رہا جو 1971ء میں ٹوٹ گیا۔
تاہم پاکستان کو ایک منظم شرح زرمبادلہ کا نظام بنانے میں 10 سال سے زائد کا عرصہ لگ گیا جو یکم جنوری 1982 میں متعارف کروایا گیا اور ابھی تک نافذالعمل ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مخصوص حد تک روپے کی تجارت کا آغاز کردیا اور امریکی ڈالر کی خرید و فروخت سے اس کی قیمت کو حکومت کی مقرر کردہ حد تک رکھا جاتا ہے۔
زرمبادلہ کی شرح سے افراط زر کو قابو کرنے کی کوشش
1982 سے تقریباََ ہر حکومت نے روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سےقابو کرنے کیلئے کوشش کی ہے تاکہ اگر صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر اکتفا کیا جائے تو بھی افراط زر کو روکا جاسکے۔
ہر دفعہ یہی ہوتا ہے حکومت غیر ملکی قرضے لیتی ہے تاکہ ڈالر جمع کئے جاسکیں اور انہیں آہستہ آہستہ فروخت کیا جاسکےڈالر کی آمدورفت اور روپے کی قدر میں مصنوعی تیزی لائی جاسکے۔ روپے کا غیر مستحکم ہونا تو طے ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کیونکہ قرض کے پیسے سے حکومت مستقبل کے اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں سرمایہ کرنے کی بجائے اسے استعمال کرلیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں غیر ملکی قرضہ فراہم کرنے والے اپنی رقم واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں اور مزید سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیںاور روپے کو مستحکم کرنے کی حکومتی کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں جو روپے کی گراوٹ کا باعث بنتا ہے۔

اس سے برا کیا ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے قرضے بڑھ گئے ہیں اور ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں قرض اور افراط زر کی یہ صورتحال کسی غیر ملکی قرض دینے والے ادارے نے نہیں پیدا کی بلکہ حکومت کی خود اختیار کی ہوئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس سے نکلنے کیلئے آئی ایم ایف سمیت کئی ادارے پاکستان کے ساتھ ہیں۔
لیکن اگر ملک میں مقدار زر اور زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس طریقہ کار سے ملک کی معیشت کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچا ہے۔ اس طریقہ کار سے افراط زر میں کمی کیلئے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس بات کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں حکومتوں نے افراط زر پر قابو پانے کیلئے کیا کیا کوششیں کی ہیں۔
افراط زر کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ
اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست 1947ء سے پاکستانی روپیہ کی قدر سالانہ 5.38 فیصد کے حساب سے گھٹ رہی ہے۔ ادارہ شماریات نے 1947 سے اب تک کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا لیکن جنوری 1958ء سے ملک میں افراط زر کی اوسط شرح 7.55 فیصد سالانہ ہے۔
اوسط کی اس شرح میں کئی اتار چڑھاؤ شامل نہیں کئے گئے۔ تاہم ہم نے ماضی کے اعدادو شمار میں سے سب سے نمایاں کو مرتب کیا ہے اور وہ یہ کہ جتنی دیر حکومت مصنوعی طریقے سے افراط زر کو 5 فیصد سے کم سطح پر رکھے گی اتنا ہی افراط زر میں اضافہ کا خدشہ رہے گا۔ اگر اس تناظر میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھا جائے تو پاکستان ایک معاشی بحران کو دعوت دیتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایوب خان کے دور حکومت میں پہلی دفعہ افراط زر پر مکمل ڈیٹا دستیاب ہے۔ اس دور میں افراط زر کی شرح 2.8 فیصد سالانہ تھی۔ تاہم ایک دفعہ پھر اس اوسط میں بے تحاشا مدوجزر شامل ہیں۔ 50 کی دہائی کے آخری سال اور 60 کی دہائی کے ابتدائی سال ایک ایسا دورانیہ تھا جب قیمتوں اور افراط زر کی شرح میں نمایاں اتار چڑھاؤ ہیں۔ 1959ء میں افراط زر کی شرح پاکستان کی کم ترین سطح منفی 10.3 فیصد پر جا پہنچی۔ تاہم فروری 1960ء یہ شرح بڑھ کر 13.3 فیصد تک جا پہنچی۔
1965 کی جنگ کے بعد افراط زر کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا اور یہ شرح دسمبر 1966 میں 10.2 فیصد تک جا پہنچی۔ کئی خیالات کے برعکس 1967 سے 1969 تک ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران افراط زر کی شرح میں کمی رہی۔ مارچ 1969ء کو جب صدر ایوب سے اقتدار لیا گیا افراط زر کی شرح 3.6 فیصد تھی۔ اس دور میں صدر ایوب کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کے نعروں میں آلوؤں کی قیمت میں اضافہ بھی تھا لیکن معاشی حقیقت یہی ہے کہ قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا تھا۔
یحییٰ خان کے دور اقتدار میں ملک میں خانہ جنگی کا ماحول تھا لیکن افراط زر کی شرح کم رہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جنگ کے دوران قیمتوں پر قابو اور راشننگ نے حالات کو سنبھلنے میں مدد دی لیکن یحییٰ خان کے دور میں افراط زر کی شرح 4.7 فیصد سالانہ رہی۔

ایسا یقینی تھا کہ اگلی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو یحییٰ خان کی حکومت اور جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں کئے گئے ردوبدل جیسے تمام خمیازے بھگتنا پڑیں گے کیونکہ جب بھٹو اقتدار میں آیا تو افراط زر کی شرح آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔
جنوری 1972ء سے دسمبر 1973ء تک ذوالفقار علی بھٹو اقتدار پر براجمان رہے۔ ان دو سالوں میں افراط زر کی شرح میں ہر مہینے اضافہ ہوا۔ جو دسمبر 1973ء میںپاکستان میں سب زیادہ 37.8 فیصد ریکارڈ گیا۔
بھٹو انتظامیہ کبھی بھی افراط زر پر قابو پانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ افراط زر کی شرح کو بڑھانے میں 1973ء کے تیل بحران نے پوری معاونت کی۔ تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی اور دنیابھر میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ 5 جولائی 1977ء کو جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی زور پر برطرف کیا گیا اس وقت ملک میں افراط زر کی اوسط سالانہ شرح 16 فیصد تھی جو پاکستان کی تاریخ میں افراط زر کی بلند ترین شرح ہے۔
ضیاء انتظامیہ نے اس معاملے میں احسن قدمی سے کام لیا اور ضیاء دور میں افراط زر کی سالانہ شرح 7.2 فیصد سالانہ تک آگئی۔ گو کہ ضیاء حکومت کو عالمی اجناس کی قیمتوں میں استحکام نے مدد دی اور امریکی ڈالر کی بہتات نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھا۔ پھر بھی ضیاء حکومت نے افراط زر کی شرح کو قابو میں رکھنے کی کئی کوششیں کیں اور ہر دفعہ ناکامی ہوئی۔ اگست 1988 میں ضیاء الحق کی طیارہ حادثہ میں موت واقع ہوگئی۔
80ء کی دہائی کے آخری سالوں اور 90ء کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے اقتدار میں بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔ تاہم 90 کی دہائی میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے شرح افراط زر کم رہی افراط زر کی یہ صورتحال ضیاء دور میں بھی غیر مستحکم تھی۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور افراط زر پر قابو پانے میں مشرف انتظامیہ کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں۔ تقریباََ پورے مشرف دور میں ڈالر کی قیمت 60 روپے پررکی رہی۔ اس دور میں افراط زر کی شرح 6.6 فیصد سالانہ تھی۔ اس شرح میں کمی کا سلسلہ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ہی شروع ہو گیا تھا جو مشرف دور کے آخری سال تک جاری رہا۔
مشرف کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا اندازہ تب ہوا جب 2008 میں سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر قیادت پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار پر براجمان ہوئی۔ اگست 2008ء مشرف دور کے آخری مہینے میں افراط زر کی سالانہ شرح نے 25.3 فیصد کی بلند سطح کو چھو لیا اور ایک سال میں روپیہ کی قدر میں ایک تہائی کمی دیکھنے میں آئی۔
واحد حکومت جس نے روپے کی قدر کو قابو میں لانے کی کوشش نہیں کی وہ آصف علی زرداری کی حکومت تھی جس نے روپے کو مارکیٹ کے حساب سے بڑھنے دیا۔ بدقسمتی سے جب پاکستان کو توانائی کی درآمد کی اشد ضرورت تھی اس دور میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کی شرح کو روکنے کی کوئی بھی کوشش نہ کئے جانے کے باوجود افراط زر بڑھتا رہا اور 13.2 فیصد سالانہ کی شرح تک پہنچ گیا۔ اگر اس میں پہلا سال جس میں مشرف اقتدار میں ہی تھا کو حذف کر دیا جائے تب بھی زرداری حکومت میں افراط زر کی شرح 10.9 فیصد سالانہ رہی۔
میاں نواز شریف کی تیسری حکومت میں ڈالر کی قیمت کو 100 روپے تک روکے رکھنے کی قابل ذکر کوششیں کی گئی اور کئی کوششیں کامیاب بھی ہوئیں جبکہ غیر ملکی قرضوں کا حجم بھی ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔2013ء سے 2018ء تک کے لیگی دور میں افراط زر کی شرح 4.9 فیصد سالانہ تھی لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ان فیصلوں نے ملکی کرنسی اور افراط زر کو کتنا نقصان پہنچایا۔
عمران خان کی حکومت کو درپیش مسائل کا حل
تو اب موجودہ حکومت کے پاس کیا آپشنز رہ گئے ہیں؟ کیا روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ اور اگر ایسا کرنا ہے تو کیا اس کی ضرورت ہے؟ اور اگر روپے کو گرنے دیا جائے تو اس کی قدر میں کتنی کمی واقع ہوگی اور اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ کیوں یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ حکومت کی مداخلت کے بغیر روپے کو گرنے دیا جائے؟
ان سب سوالوں کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ حکومت پر پہلے ہی قرضوں کا بہت بوجھ ہے اور آنے والے چند ماہ میں اس میں اضافہ بھی ہوگا جس کے بعد روپےکی قدر میں استحکا م کی کوششوں کی آپشن بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے انہیں روپے کو گرنے دینا چاہئے۔
ایک سوال ابھی باقی ہے کہ کیوں یہی طریقہ رہ گیا ہے؟ کیونکہ شاید وزیراعظم عمران خان کی قیادت ایسے اقدام کر سکتی ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ ہونے دی جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ روپے کی قدر ہر سال گرتی رہے گی جو تیزی سے روپے کی قدر میں گراوٹ میں کمی کرے گی جیسا کہ سال 2018ء اور 2008ء سمیت ماضی کے کئی سالوں میں دیکھنے میں آیا۔
ایسا کیوں ہو اس کی وجہ بھی ہے کہ اگر کاروبار اور اس سے منسلک افراد کو علم ہوجائے کہ روپے کی قدر میں ہر سال 5 سے 7 فیصد کمی واقع ہوگی تو وہ اس کیلئے پہلے سے تیار ہو سکتے ہیں۔ اگر افراط زر کی شرح 7 سے 9 فیصد سالانہ ہو تو منافع کی شرح اور قیمتوں کا تعین کیا جاسکے گا اور اس سے نپٹنے کی حکمت عملی تیار کی جاسکے گی۔
افراط زر کا بڑھنا ہرگز مفید نہیں ہے اور افراط زر کی قابو کردہحد اقتصادیات کیلئے بہتر ہوگی۔ افراط زر کی شرح منفی 5 فیصد ہونا بہت اچھا ہے لیکن اس حد تک پہنچنے کیلئے جو 2 چیزیں درکار ہیں ایک مالی خسارہ میں کمی اور دوسرا پاکستانی برآمدات میں اضافہ۔
ان اہداف کیلئے کئے جانے والے اقدامات کیلئے ایک دہائی درکار ہے۔ جب 2018 میں افراط زر کی شرح 5 فیصد ہے جو 2019ء میں بڑھ کر 10 فیصد ہو سکتی ہےتو حکومت کو اس صورتحال کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ دو سالوں میں یہ شرح 7 سے 8 فیصد ہونا ہر وقت کے اتار چڑھاؤ سے بہتر ہے۔

تاہم موجودہ قیادت کو چاہیے کہ روپے کی قدر جس حد تک گرے اسے گرنے دیا جائے اور اس کے بعد اسے تجارت کیلئے استعمال کیا جائے۔ پہلے سال میں کیا ہوا کوئی حکومت پر الزام نہیں لگائے گا اور اگر پہلے سال میں ہی روپے کی گراوٹ مکمل ہوجائے تو آنے والے 4 سال میں اس کو بہتر کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔
آنے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگی
ہمارے معاشی حالات کیا ہوں گے اگر حکومت نے روپے کو تنہا چھوڑ دیا؟
اگر ضیاء دور کے بعد کے حالات پر نظر ڈالیں تو افراط زر کی سالانہ شرح 8.28 فیصد تھی اور روپے کی گراوٹ کی شرح 6.92 فیصد تھی۔ اگر ان دونوں میں متوازی شرح کے حساب سے تبدیلی آتی تو ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہوتی بجائے کہ ہر 5 سال بعد اس میں تیزی سے اضافہ ہو۔
اہم بات یہ ہے کہ تاہم توانائی کی عالمی مارکیٹ میں ہونے والے تغیرات کو سمجھنا موجودہ حکومت کیلئے انتہائی ضروری ہے جس کا مطلب ہے کہ مستقبل قریب میں ہونے والی تیل کی قیمتیں جو مستقبل میں کم رہنےکے امکانات نظر آرہے ہیں۔ اس کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی طلب میں کمی اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہے کیونکہ زیادہ تر گاڑیاں بجلی یا متبادل ایندھن سے چل رہی ہیں۔
اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں گراوٹ افراط زر کی شرح پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوگی جیسا پچھلے سالوں میں ہوتا رہا ہے۔
اس بات کی تصدیق کیسے ہو؟ کیونکہ 2018ء میں روپے کی قدر میں (33 فیصد) کمی 2008ء میں ہونے والی (29 فیصد) کمی سے بہت زیادہ ہے اور افراط زر کی شرح میں اضافہ اگلے چند سالوں میں  عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کم ہوجائے گا۔
تو بات سادہ سی ہے کہ حکومت کو زرمبادلہ کی شرح پر مرکوز کرنے میں اپنی توانائی ہرگز ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ روپے کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ پہلے ڈوبے گا پھر آہستہ آہستہ مستحکم ہوگا جو ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری لاسکے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here