پی آئی اے، اسٹیل ملز کو بحران سے نکالنے کیلئے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، اسد عمر

241

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ حکومت پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو بحرانی حالت سے باہر نکالنے کے لیے پر عزم ہے اور اسکے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جسے جنوری میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی ملکیت اداروں میں کرپشن سے قومی خزانے کو بہت نقصان ہوا، تاہم اب حکومت ان ریاستی اداروں میں کرپشن کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں بحال کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے نومبر کے مہینے میں پی آئی اے کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری سے 17 ارب روپے فراہم کیے تھے.

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کا خسارہ 356 ارب روپے ہے اور اس پر قابل ادا رقم 406 ارب روپے ہے جبکہ اس کا کل اثاثہ 111 ارب روپے ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے میں نقصان کو 140 ارب روپے سالانہ تک کم کرنے کے اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں نقصانات سے بچنے کے لیے ترسیلی کمپنیوں میں اسمارٹ میٹر سسٹم لگایا جائے گا تاکہ بجلی کی چوری کو کم کیا جاسکے۔

نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سندھ کی جانب سے این ایف سی کے رکن کے لیے نام بھیجا گیا ہے اور یہ فہرست وزیر اعظم کو منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔

وزارت خزانہ، اقتصادی امور اور پیٹرولیم ڈویژنز کے سینیئر حکام سے ملاقات کے بعد اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 سالوں میں 4.5 ارب ڈالر کی تیل در آمدات کی سہولت کو پوری طرح سے استعمال کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔

اجلاس میں انٹرنیشنل ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) اور دیگر کی جانب سے مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر ملنے والی سہولیات پر نظر ثانی کی گئی تھی۔

اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک (آئی ڈی بی) کے رکن آئی ٹی ایف سی نے پاکستان کے لیے جولائی میں 3 سالوں میں 4.5 ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت کا آغاز کیا تھا۔

اس سہولت کا مقصد ملک میں 20-2018 کے دوران خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی در آمدات کی ضرورت کو پورا کرنا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here