آلو کی بیرون ملک تجارت پر کوئی پابندی یا ٹیکس عائد نہیں کیا، وزارت خوراک

146

اسلام آباد: پاکستان میں آلو کی ضرورت سالانہ 3.75 ملین ٹن ہوتی ہے تاہم رواں سال اسکی پیداوار 4.2 ملین ٹن متوقع ہے جس میں سے 95 سے 97 فیصد آلو پنجاب میں جبکہ باقی دیگر صوبوں میں پیدا ہوتا ہے.

2017 اور 2018ء میں پنجاب میں 4264.4 ہزار ٹن (95.96 فیصد) آلو پیدا ہوا، سندھ میں 5.7 ہزار ٹن (0.12 فیصد)، کے پی میں 152.6 ہزار ٹن (3.063 فیصد) جبکہ 22.6 ہزار ٹن ( 0.9) فیصد بلوچستان میں پیدا ہوا.

سال بھر آلو مارکیٹ میں دستیاب رہا اور اب 20 جنوری کے بعد نئی فصل آجائے گی، دسمبر سے مارچ تک قیمت میں بھی اتار چڑھائو جاری رہتا ہے. جنوری 2018 میں آلو کی قیمت 33 روپے فی کلو سے شروع ہوئی تھی جو دسمبر میں 28.8 روپے فی کلو تک رہی، 20 جنوری کے بعد آلو بیرون ملک بھیجنے کیلئے سب سے اچھی فصل ہے.
افواہیں گردش میں ہیں کہ موجودہ حکومت نے آلو کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے اور اس کی تجارت پر لیوی ٹیکس عائد کر دیا ہے. اس غلط خبر کی وجہ سے آلو کے کاشتکاروں سمیت تاجروں اور برآمد کنندگان کو تشویش لاحق ہوئی، کسان اس حوالے سے زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ وہ اگلے فصل کے لیے پریشان تھے.

تاہم دوسری جانب وزارت برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق نے اس خبر کو غلط قرار دیا ہے. وزارت خوراک نے کسانوں کی معاشی بدحالی ختم کرنے اور زرعی انقلاب برپا کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے. حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی اور مسائل کے حل کیلئے ایک ٹآسک فورس کی ذمہ داری لگائی ہے.

وزارت خوراک کے مطابق آلو کی تجارت پر پابندی سے متعلق غلط خبریں قابل مذمت ہیں. حکومت کسانوں اور تاجروں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے، تاجروں کی سہولت کیلئے اوکاڑہ میں ایک سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں انسپکشن، ڈاکومینٹیشن اور ایس پی ایس سرٹیفکیٹ سے متعلق کسانوں کو سہولت دی جاتی ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here