سی پیک میں پیش رفت ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال نمایاں بہتر ہوئی ہے، گلوبل ٹائمز

سی پیک میں پیش رفت ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کے شہروں میں حالیہ سالوں میں سیکیورٹی بہتر ہوئی ہے‘ سی پیک چین کی طرف سے شروع کئے گئے ایک پٹی ایک روڈ کا پائلٹ پراجیکٹ ہے‘ گلوبل ٹائمز

153

بیجنگ ۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں پیش رفت ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کے شہروں میں حالیہ سالوں میں سیکیورٹی بہتر ہوئی ہے جبکہ سی پیک چین کی طرف سے شروع کئے گئے ایک پٹی ایک روڈ کا پائلٹ پراجیکٹ ہے۔
گلوبل ٹائمز میں جمعرات کو شائع شدہ آرٹیکل کے مطابق پشاور کی ہی مثال لے لیں جوکہ شمالی پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہ ترین شہر تھا اس شہر میں حالیہ چند سالوں میں سی پیک میں پیشرفت ہوئی جس کے ساتھ ہی اب اس شہر میں بلاشبہ سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ چہل کے مقامی لوگوں کو بھی علم تھا کہ دہشت گردی ایک پٹی ایک شاہراہ منصوبوں میں رکاوٹ ڈال سکتی تھی اس لئے انہوں نے سماج دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے بھرپور مزاحمت کی جس کے نتیجے میں وہاں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک پٹی ایک شاہراہ جیوپولیٹیکل ڈھانچے کی بجائے جیو اکنامک ہے اور اس کا جیو پولیٹیکس ڈھانچہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مزید براں چین کا بھی بیلٹ روڈ شروعات کے ذریعے کوئی الائنس بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے ذریعے اثر و رسوخ کا خواہاں ہے اور وہ روڈ بیلٹ شروعات پر عملدرآمد کرنے کے لئے اتحادی نہیں بلکہ شراکتدار چاہتا ہے۔ آرٹیکل کے مطابق مغرب والے بیلٹ روڈ شروعات کو چین کا جنگی منصوبہ کہتے ہیں جبکہ اس ضمن میں یہ دو مختلف چیزیں ہیں جن کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ مارشل پلان امریکی شروع تھا جس کا مقصد مغربی یورپی ممالک کو امداد دینا تھا تاکہ سرد جنگ کے آغاز پر کمیونزم کی روک تھام کی جاسکے جبکہ اس کے بالکل برعکس ایک پٹی ایک شاہراہ منصوبہ سرمایہ کاری کا ہے جس میں مختلف سیاسی نظام رکھنے والے ممالک کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد فوجی الائنس بنانا نہیں ہے۔ بیلٹ روڈ شروعات کی اہمیت یہ ہے کہ اس کا مرکزی خیال جیو اقتصادیات ہیں جوکہ پسماندہ خطوں میں ترقیاتی مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ جاپان اور چین نے بھی تیسری دنیا کے ممالک میں ڈھانچہ جاتی منصوبوں میں تعاون کے لئے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ کھلا ہے اس لئے اس میں جتنے زیادہ ممالک شامل ہوں گے یہ اتنا ہی محفوظ اور ترقی کے لئے زیادہ موزوں اور سازگار ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون کے لئے اقدامات کرنے کا پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here