فری ٹریڈ ایگریمنٹس کا پاکستانی صنعتی شعبے پر الٹا اثر ہوا، عبدالرزاق دائود

پاکستان انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی اور چین کیساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس (ایف ٹی اے) کے حوالے سے نقصان میں رہا ہے، حکومت چین کیساتھ معاہدے پر مذاکرات کر رہی ہے، مشیر وزیراعظم

239

فیصل آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی اور چین کیساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس (ایف ٹی اے) کے حوالے سے نقصان میں رہا ہے.

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق دائود نے کہا کہ گزشتہ عشرہ کے دوران بہت سے صنعتی یونٹ بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہو کر 20 ارب ڈآلر رہ گئیں .

مشیر وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ مخلتف ممالک کیساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس پر دستخط کرنے کا پاکستان کے صنعتی شعبے پر الٹا اثر ہوا ہے اور حکومت چائنا پاکستان معاہدے پر بھی دوبارہ بات چیت کر رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ ملائیشیا نے حآل ہی میں ڈینم سمیت 20 پاکستانی مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی دینے کا عندیہ دیا ہے اور ہمارے تاجروں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے.

ملائیشیا کیساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالرزاق دائود نے کہا کہ وفاقی سیکریٹری کامرس یونس ڈھاگا معاہدے پر بات چیت کیلئے جلد کوالالمپور جائیں گے، ملائیشیا پاکستان کو قریباََ ایک ارب ڈالر کی مصنوعات بھیجتا ہے جبکہ پاکستان کی ملائیشیا کو برآمدات محض 150 ملین ڈآلر ہیں. انہوں نے کہا کہ انڈسٹریلائزیشن کیساتھ برآمدات کو بڑھا کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے.

مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کئی عشروں تک پاکستان کی برآمدات محض ٹیکسٹائل تک محدود رہیں تاہم اب حکومت ایک جامع انڈسٹریلائزیشن پالیسی متعارف کروا رہی ہے جس میں انجنئیر نگ، کیمیکل، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں پر بھی توجہ دی جائے گی. چیزوں کو اپنے ملک میں بنانے کی بجائے ہر چیز باہر سے منگوانا پاکستان میں ایک کلچر بن چکا ہے. ہمیں اس کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے صنعتی شعبے کی ترقی کیلئے ‘میڈ ان پاکستان’ کلچر کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی.

انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کاروبار کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات کے حوالے سے حکومت کوتجاویز دے تاکہ ان تجاویز کی روشنی میں ہم کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے پالیسی مرتب کرسکیں.

عبدالرزاق دائود کا کہنا تھا کہ ہم انڈسٹریل پالیسی کا ایسا ڈھانچہ بنائیں گے کہ حکومت تزویراتی طور پر اہمیت کی حامل انڈسٹری کو سپورٹ کرسکےگی. انہوں نے کہا کچھ ماہرین نے انہیں رائے دی ہے کہ صنعتی شعبے کی ترقی حکومتی مداخلت کے بغیر مارکیٹ ڈائنامکس پر ہی چھوڑ دی جائے تاہم یہ اس عمل کیلئے درست وقت نہیں‌ہے، ہمیں اپنے صنعتی شعبے کو اوپر اٹھانا ہے.

ٹیرف سٹرکچر کی وضاحت کرتے ہوئے مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت اس پر غوروخوض کررہی ہے اور یہ آئندہ سال آنے والے ضمنی بجٹ میں شامل ہوگا.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صنعتی شعبہ حکومت کی جانب سے سہولیات مہیا نہ کرنے کی وجہ سے تباہ ہوا، صنعتوں کیلئے گیس کا مسئلہ حل کردیا ہے جبکہ 7.5 سینٹس فی یونٹ کے حوالے سے بجلی مہیا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہونا ابھی باقی ہے. ان کا کہنا تھا کہ انرجی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وہ کمیٹی ممبران کے سامنے نجی شعبے کی تجاوزیر رکھیں‌ گے.

عبدالرزاق دائود نے جاپان، کوریا، ملائیشیا، ویتنام اور کمبوڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے معاشی خودکفالت کیلئے صنعتی شعبے کو سپورٹ کیا. ان کا کہنا تھا کہ پتلی معاشی حالت کی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تاہم تیز صنعتی ترقی کی وجہ سے آئندہ ایک سے دو سال میں ملکی معیشت مستحکم ہو جائےگی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here