امریکا، 2018ء کا تیسرا حکومتی شٹ ڈائون، کرسمس پر 8 لاکھ سرکاری ملازمین متاثر

280

واشنگٹن: امریکا میں حکومت اور اپوزیشن میں اختلافات کے باعث بجٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے جزوی شٹ ڈاؤن ہوگیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہوگئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بجٹ میں میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے منصوبے کیلئے 5 ارب ڈالرز مختص کیے تھے تاہم کانگریس میں اپوزیشن نے مذکورہ منصوبے کی منظوری دینے سے انکار کردیا جبکہ ٹرمپ بھی اپنے موقف پر ڈٹ گئے اور منصوبہ واپس لینے سے انکار کردیا. اس تعطل کی وجہ سے بجٹ منظور نہ ہوسکا اوروفاقی حکومت شٹ ڈاؤن کا شکار ہوگئی.

واضح رہے کہ کانگریس میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہے.

شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں اکثر وفاقی سرکاری محکمے بند ہوگئے ہیں اور 8 لاکھ سرکاری ملازمین متاثر ہوئے جو پیر کو کام پر نہیں آسکیں گے۔

وائٹ ہاؤس حکام نے آخری لمحات میں بھی شٹ ڈاؤن روکنے کی بہت کوشش کی اور ری پبلکن و ڈیموکریٹس کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں اختلافات دور کرنے کیلئے بات چیت کی گئی تاہم مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اس کے بعد ایوان نمائندگان میں‌ کانگریس کا اجلاس کسی بے نتیجہ ختم ہوا۔

شٹ ڈاون کے باعث تمام امریکی وفاقی ایجنسیوں کو ایک چوتھائی فنڈز کی فراہمی رک گئی ہے اور کرسمس پر 8 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کے متاثر ہونے کا امکان ہے جو تنخواہوں سے محروم رہیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار اپوزیشن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں یہ اس سال کا تیسرا حکومتی شٹ ڈاؤن ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here