آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کیلئے حکومت کا عوام پر 190 ارب روپے کے ٹیکس بم گرانے پر غور

ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کی مجوزہ شرائط کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ جنوری کے وسط میں ہونے والی آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے میں پاکستان کے قرض کی درخواست بھی شامل ہو جائے

127

حکومت پاکستان نے 22 کھرب روپے کے بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے 190 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کے حوالے سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف ) کو آگاہ کردیا۔
شرح سود میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر کے 13بلین ڈالر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق زر اور نظام زر کی یہ تجاویز معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یاداشت (ایم ای ایف پی) کا حصہ ہیں جو گزشتہ روز آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے کو فراہم کی گئی ہیں۔
آئی ایم ایف نے بجٹ خسارہ کم کرنے،حکومتی آمدنی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، بات وفاقی حکومت کے ٹیکسوں تک ہی محدود نہیں, عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے رواں مالی سال صوبائی حکومتوں کی آمدنی بڑھانے کے سلسلے میں بھی عملی اقدامات کا کہا جا رہا ہےجس کا مطلب ہے کہ مہنگائی صرف وفاقی حکومت ہی نہیں کرے گی بلکہ صوبائی حکومتیں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کی مجوزہ شرائط کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ جنوری کے وسط میں ہونے والی آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے میں پاکستان کے قرض کی درخواست بھی شامل ہو جائے. پی ٹی آئی نے ستمبر میں پہلے منی بجٹ میں عوام پر 182 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا تھا۔
200 سے 250 اشیائے ضروری پر سیلز ٹیکس بڑھانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔جن اشیاء پر سیلز ٹیکس 15 فیصد تھا اس کو بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔جب کہ 18 فیصد سے ٹیکس کی شرح بڑھا کر 21 فیصد کی جائے گی۔موبائل فونز پر مختلف ڈیوٹی اور ٹیکس شرح کو کم از کم 10 فیصد بڑھایا جائے گا۔
سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بھی بڑھائی جائے گی۔جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے دوسرا منی بجٹ لانے کی خبر کی تصدیق کر دی ہے جو کہ ممکنہ طور پر جنوری کے مہینے میں لایا جائے گا۔ واضح رہے نئی حکومت اس سے پہلے بھی منی بجٹ پیش کر چکی ہے۔ حکومت نے منی بجٹ میں سگریٹ اور مہنگے موبائل فون پر ڈیوٹی بڑھانے اور ای او بی آئی کی کم سے کم پنشن 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی طورپر ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے ،ْ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنا ہماری ترجیح ہے ۔
اگر ہم نے فیصلے نہ کیے تو زرمبادلہ ذخائر مزید گرسکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں خسارہ 7.2فیصد تک پہنچ سکتا ہے، پٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ،پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے ، انصاف کارڈ کے تحت علاج کیلئے 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک اخراجات دیئے جائیں گے ،مزدوروں کیلئے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے ، 8276 گھروں کی تعمیر کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے جاریکیے جائیں گے ، سالانہ 12 لاکھ آمدنی والوں سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا ، دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائیگا، ڈیم کیلئے مختص رقم میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، وزیراعظم، وزراء اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ کم کردی گئی ۔
سی پیک میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ،900 درآمدی اشیاء پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 ہزار درامدی اشیاء ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگانے اور نان فائلر کیلئے گاڑی خریدنے پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے ، بینگ ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کریگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here