پاکستان انفراسٹکچر پر جی ڈی پی کا کم ترین خرچ کرنے والے ایشیائی ممالک میں شامل: رپورٹ

پاکستان انفراسٹرکچر پر 2.1 فیصد خرچ کے ساتھ بنگلہ دیش اور میانمار کے ہم پلہ، تینوں ممالک میں نجی شعبہ سرمایہ کاری کا ماحول پرخطر سمجھتا ہے

72

لاہور: ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) کے مطابق پاکستان ، بنگلہ دیش اور میانمار اپنے جی ڈی پی کا اوسطاََ 2.1 فیصد انفراسٹکچر پر خرچ کرتے ہیں جس کی وجہ سے انفراسٹکچر کے شعبہ میں خسارہ زیادہ ہو رہا ہے.

فچ سلیوشنز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھی دیگر دونوں ممالک کیساتھ شامل ہے جہاں نجی شعبہ سرمایہ کاری کے ماحول کو پرخطر سمجھتا ہے.

فچ سلیوشنز کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کیلئے متبادل سرمایا نہ ہونے کی وجہ سے معاشی طورپر ابھرتے ان ممالک میں انفراسٹکچر کی ترقی کیلئے انحصار زیادہ تر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر رہے گا. جس کے نتیجے میں سیاسی خطرات بھی بڑھیں گے.

رپورٹ کے مطابق چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایشیا بھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرتا رہے گا.

اس کے علاوہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جن ممالک میں آئندہ انتخابات متوقع ہیں وہاں مقبول امیدواروں کی جانب سے انفراسٹرکچر کے حوالے سے پالیسی میں بڑی تبدیلی کا خطرہ بھی موجود ہے.

2018ء میں بہت سی حکومتوں نے سابق حکومتوں کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے متعلق کیے جانے والے معاہدوں کو منسوخ‌کردیا. رواں سال ہی اس منصوبے کے بہت سے معاہدوں کی جانچ پڑتان کی گئی اور 2019ء میں بھی اس کا امکان ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ چینی قرضے الیکشن کے مہم کیلئے استعمال کیے گئے.

فچ سلیوشنز کی رپورٹ کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اس لیے بھی تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ یہ منصوبے جن ممالک بن رہے ہیں وہاں کے مقامی خام مال کو استعال کرنے اور مزدوروں کو روزگار دینے کی بجائے ان منصوبوں میں چینی خام مال اور مزدوروں پر انحصار زیادہ کیا جا رہا ہے. اس کی ایکا وجہ مقامی افراد کی مہارت میں کمی اور ٹیکنالوجی سے نابلد ہونا بھی ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بھی حکومت میں ہو انفراسٹرکچر اور متبادل سرمائے کے ذرائع کی کمیابی کی وجہ سے اسے چینی سرمایہ کاری پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے.

اس سے قبل مئی میں سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ (سی جی ڈی) کی بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ سے متعلق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کو چینی قرضوں سے سب سے زیادہ خطرہ ہے.

سی جی ڈی کے رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک منصوبوں کی مالیت‌اندازاََ 62 ارب ڈالر ہے جس میں 33 ارب ڈالر انرجی سیکٹر میں انویسٹ کیے گئے. اس میں سے عموماََ چین 80 فیصد سرمایہ کاری کریگا. اس میں سے بھی 2017 میں کچھ سڑکوں کے منصوبے منسوخ کر دیے گئے.

سی جی ڈی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چینی قرضوں پر شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان کو نقصان ہوگا. چینا ایگزم بنک عموماََ دیکر کسٹمرز کو 2 سے 2.5 فیصد شرح سود پر قرضے دیتا ہے جبکہ پاکستان کو پانچ فیصد شرح سود پر دیے گئے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here