وزیراعظم عمران خان کا ہدف، کپاس کی 15 ملین گانٹھوں کی پیداوار

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کپاس کے شعبہ کو درپیش چیلنجز اور زرعی شعبہ کو ترقی دینے کے حوالے سے اجلاس

184

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کپاس کی پیداوار کو 15 ملین گانٹھوں تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں کاشتکاروں کی معاونت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کپاس کے شعبہ کو درپیش چیلنجز اور زرعی شعبہ کو ترقی دینے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے زرعی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے اور زرعی فصلوں کیلئے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سربراہی میں ورکنگ گروپ کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم اور پنجاب کے وزیر زراعت ملک نعمان احمد خان لنگڑیال، سیکرٹری وزارت فوڈ سکیورٹی ڈاکٹر ایم ہاشم پوپلزئی، عارف ندیم، حسن رضا اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ورکنگ گروپ بیج فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں اور حکومتی شعبہ کے ریگولیٹرز پر مشتمل ہو گا جو زرعی فصلوں کے سیڈ سرٹیفکیشن سسٹم کو آسان بنائیں گے جس سے کسان اس قابل ہوں گے کہ وہ اچھا اور معیاری بیج حاصل کر سکیں جبکہ کسانوں کو معیاری اور غیر معیاری بیج کے مابین فرق کا بھی پتہ چل سکے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بائیو سیفٹی اسسمنٹ اور جینز سے متعلقہ رولز پر نظرثانی کی جائے اور جائزہ لیا جائے تاکہ انہیں مزید مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کپاس پاکستان کی دوسری بڑی فصل ہے جو 6.66 ملین ہیکٹرز رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے اور دنیا میں چوتھا بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود 1.2 ارب ڈالر کی خام کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اس موقع پر ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے اسباب پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کاٹن سیڈ کی اقسام میں بہتری لانے کیلئے کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ کپاس کے کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور انہیں مراعات دے کر کپاس کی موجودہ اقسام سے پیداوار کو 15 ملین گانٹھوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے تحقیقی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقی مراکز کو سیڈ رجسٹریشن اور اپنے تحقیقی کاموں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here