آئی ایم ایف کے پاس جانے کی جلدی نہیں، اسد عمر

سی پیک معاہدوں میں تبدیلی خارج از امکان نہیں، تمام منصوبوں میں شفافیت موجود ہے، آئی ایم ایف اور امریکا کے خدشات دور کر دیے ہیں، عرب نیوز کو انٹرویو

252

لاہور: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کہ حکومت کو قرض لینے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کوئی جلدی ہے نہ ہی روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے کہنے پر کی.

عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ دوست ممالک کی طرف سے رقم کی فراہمی اور ابتدائی 100 دنوں میں حکومت کے معاشی اقدامات کی بدولت ہونے والی بچت رواں مالی سال کے دوران معیشت کو چلانے میں مدد دے گی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے معاشی اقدامات کا نتیجہ 6 سے 7 ارب ڈالر کی بچت کی صورت میں نکلا ہے۔ اس کے علاوہ اکتوبر میں سعودی عرب کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے پیکج پر بھی اتفاق ہوا ہے جبکہ چین اور متحدہ عرب امارات سے بھی امداد ملنے کی توقع ہےتاہم وزیر خزانہ نے چین اور امارات سے متوقع پیکیجز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا.

اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ اصلاحات کی رفتار تھی ۔ اگر بہت تیزی سے اصلاحات اور ایڈجسٹمنٹ کرنے کی کوشش کی جائے تو معیشت تباہ ہو سکتی ہےاور یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ جب ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں کسی پروگرام کا خاکہ طے پاگیا ہے تو آئی ایم ایف کے پروگرام پر دستخط کردیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے کہنے پر کی گئی۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) سے متعلق ایک سوال پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ سی پیک معاہدوں میں تبدیلی خارج از امکان نہیں، لیکن ان منصوبوں میں مکمل شفافیت موجود ہے اور چین کے ساتھ معاہدوں پر بہت دیکھ بھال کر وضع کیے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق دستخط کیے گئے تھے۔

اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان نے امریکا اور آئی ایم ایف کو سی پیک سے متعلق خدشات پر پریزینٹیشن دے کر خدشات دور کردیئے ہیں.

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سی پیک پورٹ فولیو میں نئے منصوبے شامل کیے جائیں گے جن میں کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کی تنصیب اور خصوصی صنعتی زونز کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تعمیری تجارتی مذاکرات کے لیے تیار ہے ، لیکن یہ صرف یک طرفہ طور پر نہیں ہوسکتا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here