جولائی سے نومبر تک پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت اخراجات میں 40.3 فیصد کمی

پلاننگ کمیشن کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی سے نومبر کے دوران 39 وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو 71 ارب روپے جاری کیے گئے

273

اسلام آباد: کم آمدنی اور تنگ مالی حالات کی وجہ سے مالی سال 19-2018ء کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے اخراجا ت کم ہو رہے ہیں۔

انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی سے نومبر کے دوران منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 182 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران یہی اخراجات 305 ارب روپے تھے جن میں رواں مالی سال کے دوران 40.3 فیصد کمی ہوئی۔

یہ اعداوشمار 7 دسمبر تک ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ 675 ارب روپے میں سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر زیادہ سے زیادہ 27 فیصد خرچ ہوئے۔

گزشتہ مالی سال پاننگ کمیشن نے 305 ارب روپے خرچ کیے جو کہ کل 800 ارب روپے میں سے 38 فیصد بنتے ہیں۔

پلاننگ کمیشن کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی سے نومبر کے دوران 39 وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو 71 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ فاٹا کی ترقی کے لیے کسی قسم کے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔حالانکہ پی ٹی آئی حکومت نے ضمنی بجٹ میں فاٹا کے لیے 10 ارب روپے مخٹص کیے تھے تاکہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد 10 سالہ ترقیاتی پروگرام شروع کیا جا سکے۔

2017ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کیلئے سالانہ 26ارب روپے کی بجائے صرف 10.5 ارب روپے مختص کیے۔ تاہم گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بڑا حصہ ملا۔ آزاد کشمیر کے سالانہ 25.8 ارب روپے میں سے پلاننگ کمیشن نے جولائی سے نومبر تک 10.7 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کیلئے 17.8 ارب میں سے 7.8 ارب روپے جاری کیے گئے۔

وفاقی بجٹ میں سے یہ ادائیگیاں کچھ علاقوں کو زیادہ اس لیے بھی تھیں کیونکہ سی پیک کے اکثر منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ان پر گزشتہ سالوں سے کام جاری رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here