نئے بجلی گھر کی بجائے پرانے بجلی گھروں کی مرمت اور بحالی سستا آپشن ہے، انجینئر دارو خان اچکزئی

118

اسلام آباد: یونائیٹڈ بزنس گروپ کے رہنما اورایف پی سی سی آئی کے صدراتی امیدوارانجینئر دارو خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نئے بجلی گھر بنانے کے مقابلہ میں پرانے بجلی گھروں کی مرمت اور بحالی سستا آپشن ہے جس سے بجلی کا شارٹ فال ختم کیا جاسکتا ہے، آپریشنل بجلی گھروں کو مناسب توجہ دینے سے بہت زیادہ اضافی لاگت کے بغیر بجلی کی پیداوار میں ایک سو فیصد اضافہ ممکن ہے، ملک میں ڈیموں کی تعمیرکو کئی دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا ہے مگر اب صورتحال بدل رہی ہے جو خوش آئند ہے۔
اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر پر اختلاف رائے کے سبب غیر ضروری تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے ملک کا درآمدی ایندھن پر انحصاربہت بڑھ گیا ہے جو مہنگی بجلی، گرتی درامدات اور بجٹ خسارے کا بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے حکومت قرض لینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی ہے۔
1951ء سے ابھی تک پانی کی دستیابی میں سوا چار سو فیصد کمی آچکی ہے جس سے شہری اور دیہی عوام پریشان اور ملک میں فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیاہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں تیس دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ بھارت نے تین ماہ کی ضروریات کا پانی ذخیرہ کر رکھا ہے، ملک میں 197 ملین ایکڑ اراضی قابل کاشت ہے مگر پانی کی کمی کی وجہ سے صرف52 ملین ایکڑ پر کاشت ہورہی ہے۔ زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کیلئے نئے ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے کیونکہ ملک میں موجود میگا ڈیموں کی استعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here