بزنس کمیونٹی کو 3.6 کھرب ڈالر کی عالمی حلال مارکیٹ میں ضرور سرمایہ کاری کرنی چاہیے، سی ای او حلال ریسرچ کونسل

حلال مصنوعات کی عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے، مارکیٹ کا 90 فیصد شیئر غیر مسلم ممالک کے پاس ہے

142

اسلام آباد: چیف ایگزیکٹو آفیسر حلال ریسرچ کونسل محمد زبیر نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو حلال انڈسٹری میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

کاروباری طبقے کو حلال انڈسٹری میں برآمدات کیلئے موجود پوٹینشل کے حوالے سے آگاہی دینے کیلئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور حلال ریسرچ کونسل کے اشتراک سے ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیا۔

اس موقع پر محمد زبیر نے کہا کہ 3.6 کھرب ڈالر کی حلال مصنوعات کی عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ محض 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ مارکیٹ کا 90 فیصد شیئر غیر مسلم ممالک کے پاس ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں حلال مصنوعات کے 10 بڑے درآمد کنندگان بھی غیر مسلم ممالک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نجی شعبہ حلال سرٹیفکیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مارکیٹ تک رسائی کی دسترس رکھتا ہے۔

مینو فیکچررز کیلئے حلال سرٹیفکیشن کے فوائد بتاتے ہوئے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی مصنوعات کو دنیا بھر میں حلال مصنوعات 1.6 ارب خریداروں تک رسائی ملے گی۔ سرٹیفکیشن سے ناصرف انہیں زیادہ کاروباری مواقع میسر آئیں گے بلکہ عالمی مارکیٹ میں زیادہ حصہ ملے گااور اپنے مد مقابل تاجروں کے خلاف متعلقہ ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

حلال ریسرچ کونسل کے سی ای او نے کہا کہ ان کا ادارہ اس حوالے سے بزنس کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مزید پروگرام بھی منعقد کرے گا۔

اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ عالمی حلال مارکیٹ صرف اسلامک بینکنک اور فنانس تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ خوراک، کیمیکل، ادویات، کاسمیٹکس، تعلیم، ٹورزم اور مہمان نوازی کے شعبے بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ حکومت کی مدد سے پاکستان کا نجی شعبہ حلال مصنوعات کی برآمدات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلال سرٹیفکیشن ایجنسی کے قیام سے ملائیشیا کی برآمدات کئی گناہ بڑھ چکی ہیں جبکہ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ سینٹرل حلال اتھارٹی بنائے جس سے حلال مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ، ترکی، وسطیٰ ایشیا، یورپ، امریکا اور برطانیہ میں حلال مصنوعات کی طلب بہت زیادہ ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے نجی شعبہ کو مکمل تعان فراہم کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here