سینٹ کمیٹی کا روپے کی قدر میں کمی پر نوٹس، تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو خط

سٹیٹ بنک، منی چینجرز سے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت تحقیقات کی جائیں، بتایا جائے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کا تعین کون کرتا ہے، سینیٹر رحمان ملک کا ایف آئی اے کو خط

152

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے روپے کی قدر میں مسلسل کمی پر نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کوتحقیقات کرنے اور 22 دسمبر تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کا نوٹس لیتے ہوئے سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے ایف آئی اے کو ایک خط لکھا ہے جس میں حکم دیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز جن میں سٹیٹ بنک، منی چینجرز وغیرہ شامل ہیں سے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت تحقیقات کی جائیں۔

سینیٹر رحمان ملک نے خط میں کہا ہے کہ یہ بہت خطرناک صورتحال ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کا علم نہیں تھا۔ روپے کی تاریخی گراوٹ کے پیچھے آخر کونسے عناصر تھے۔ یہ پتا چلانا ضروری ہے کہ کسی مافیا کی جانب سے اپنے محفوظ شدہ ڈالرز کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کیلئے مصنوعی بحران تو پیدا نہیں کیا گیا کیونکہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ کچھ کرنسی ڈیلرز بڑی تعداد میں ڈالر محفوظ کرکے اوپن مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کر دیتے تھے جس کے بعد سٹیٹ بنک کو ڈالر زیادہ قیمت پر خریدنے پڑتے تھے۔ اسطرح ایک مخصوص طبقے مستفید ہوتا تھا۔

سابق وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ حالیہ صورتحال سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔

خط میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے کرنسی کی قیمت طے کرتے ہوئے رازداری رکھنے کیلئے کیا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اور کرنسی کی قیمت کا تعین کون کرتا اور حتمی اختیار کس کے پاس ہے؟

سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کیساتھ ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے عوام کو بتائے اور کہیں روپے کی قدر میں حالیہ کمی آئی ایم ایف کیساتھ ہونیو الی بات چیت کا نتیجہ تو نہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے پتا چلائے کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کے تعین کا اصل طریقہ کار کیا ہے کیونکہ اس حوالے سے کافی تنازع پایا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں آزادانہ طور پر کمی کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے جبکہ اس سے ناصرف عام آدمی متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان ہو تا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here