کروڑوں روپے واجب الادا، شاہین ایئر کے مالکان بیرون ملک فرار

شاہین ائیر انٹرنیشنل کے ذمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 136 کروڑ روپے کے واجبات

195

اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام داخل کرنے کی درخواست کے باوجود شاہین ایئر انٹرنیشنل کے مالکان بیرون ملک فرار ہوگئے۔
ایک جریدے کی رپورٹ کے مطابق سی اے اے حکام نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو ستمبر میں ایک درخواست بھیجی گئی تھی جس کے مطابق چیئرمین شاہین ائیر انٹرنیشنل محمود صہبائی اور چیف ایگزیٹو آفیسر کے ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی
سی اے اے کے حکام نے یہ بھی بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے عدم توجہی کے باعث شاہین ایئر کے مالکان پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
سی اے اے حکام نے بتایا کہ عدالت میں شاہین ایئر کے خلاف واجبات کی ادائیگی سے متعلق درخواست دی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر شاہین ایئر کے مالکان کی پاکستان میں موجود سے واجبات اور تنخواہوں کی ادائیگی میں آسانی ہوجائے گی۔
جب سی اے اے کی تحویل میں موجود شاہین ایئر کے 8 طیاروں کی بابت پوچھا گیا تو حکام کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کی خستہ حالت کے باعث ان کی پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے اور ایئر لائن سے پارکنگ کی فیس بھی وصول کی جائے گی۔
رواں ہفتے ایک قومی جریدے میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق جو سعودی شہزادہ شاہین ایئر میں انویسٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا اس نے بھی معذرت کر لی ہے۔
شاہین ایئر کے چیف مارکیٹنگ آفیسر زوہیب حسن نے بتایا کہ ایئر لائن کو بند کرنے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں تاہم اس کے دفاتر کو دو ہفتے سے بند کر دیا گیا ہے۔
ایک ملازم کے مطابق سعودی شہزادے نے قانونی پیچیدگیوں اور کیسز کی وجہ سے ڈیل سے منع کر دیا ہے ۔
شاہین ائیر انٹرنیشنل کے ذمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 136 کروڑ روپے اور کئی کیٹرنگ سروسز، کمپنیز، فیول سپلائرز اور بینکوں کے بھی کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔
اس کے علاوہ شاہین ایئر کے لائسنس اور فٹنس سرٹیفیکیٹس کی معیاد بھی ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اس کی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
آئرلینڈ کی کمپنی ائیرکیپ نے آئرش ایمبیسی کی مدد سے اپنے 8 طیارے شاہین ایئر سے واپس لے لئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here