پاکستان کی حکومت اور عوام سارک کے مقاصد کے حصول میں پرعزم ہیں

پاکستان 19 ویں سارک کانفرنس کی میزبانی کرے گا، ہمیں معیشت، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے کوششیں تیز کرنی ہیں ، سارک چارٹر کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتے ہیں،سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا 34 ویں سارک چارٹر ڈے کی تقریب سے خطاب

113

اسلام آباد: سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام سارک کے مقاصد کے حصول میں پرعزم ہیں،پاکستان سارک چارٹر کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،سارک کو خطے کے لوگوں کی بہتری کے وعدے کے تحت بنایا گیا لیکن سارک نے اپنی ترقی کے مقاصد حاصل نہیں کیے،ہمیں معیشت، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے کوششیں تیز کرنی ہیں،سارک میں اتار چڑھاؤ آیا ہے تاہم سارک مستحکم ہے۔
یہ باتیں انہوں نے جمعہ کے روز دفتر خارجہ میں 34ویں سارک چارٹر ڈے کی پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔تقریب میں چینی سفیر یاو جنگ سمیت سارک رکن ممالک کے سفیروں، مندوبین اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان سارک چارٹر کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے۔سارک کو خطے کے لوگوں کی بہتری کے وعدے کے تحت بنایا گیا لیکن سارک نے اپنی ترقی کے مقاصد حاصل نہیں کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دن کا مقصد اس خطے میں ترقی و خوشحالی کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔پاکستان 19 ویں سارک سمٹ کی میزبانی کرے گا۔انھوں نے کہاکہ ہمیں معیشت توانائی بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے کوششیں تیز کرنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جنوبی ایشیا دنیا کا غریب ترین خطہ ہے۔ ہمیں اس میں ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہے۔
ڈائریکٹر سارک انرجی سنٹر محمد نعیم نے کہا کہ سارک کو اس خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی اور زراعت ،سرمایہ کاری ،صنعت ،توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کیلئے بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2008 میں سارک انرجی سنٹر بنایا گیا تاکہ پائیدار توانائی تک رسائی کا حصول ممکن ہو،ہمیں توانائی پر کام کرنا ہے،خصوصی طور پر ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کے وسائل پر کام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں دنیا کی 24 فیصد آبادیوں رہتی ہے۔ہمیں مشترکہ مخلص کوششوں سے آپس کے تنازعات کا حل کرنا ہے۔آئیں اور اس عزم کا عیادہ کریں کہ سارک کو مستحکم بنائیں گے۔صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ مستقبل میں انتہائی اہم خطہ بننے جا رہا ہے،اس تنظیم کے رکن ممالک دنیا میں سب سے زیادہ تیز ترین ترقی کررہے ہیں۔
ہمیں نجی اور سرکاری شعبے میں پل کا کردار ادا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری آبادیوں دنیا کی چوبیس فیصد ہے۔اس علاقے میں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں،ہمیں تعاون میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سارک کا مقصد بھی رکن ممالک میں تجارت سرمایہ کاری اور روابط کو بڑھانا ہے۔ہمیں آپس کے مسائل کو حل کرنا ہے تاکہ تعاون کو فروغ ملے۔
ہمیں اس تنظیم کو متحرک اور فعال بنانا ہے۔اس خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے سارک کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔تقریب میں افغانستان کے ناظم الامور رحیم اللہ ،بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر طارق احسن،بھارت ہائی کمشن کے سینڈ سیکرٹری آخیلیش سنگھ، مالدیپ کے سفیر احمد سلیم، نیپال کے سفیر سیوا لمسالسری لنکا کے ہائی کمشنر نور دین محمدشاہد اور سارک کے مبصر ممالک میں چین کے سفیر یاو جنگ،آسٹریلیا کی فرسٹ سیکرٹری ایما لیہ، یورپین یونین کے فرینک اولیور،امریکی سفارتخانے کی پولیٹیکل آفیسر جوسند جینت سمیت ایران،کوریا،میانمار اور جاپان کے مبصرین نے بھی شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here