تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ2019 کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو گا

منصوبہ سے 10 ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، پاکستان میں پائپ لائن بچھانے میں 2 سال کا عرصہ لگے گا، افغانستان اور پاکستان کی جانب سے پائپ لائن کی مکمل حفاظت کی ضمانت بھی دے دی گئی، رپورٹ

124

اسلام آباد: 2019 کی پہلی سہہ ماہی میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان پائپ لائن کے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کردیا جائے گا اور یہ منصوبہ ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کی جانب سے پائپ لائن کی مکمل حفاظت کی ضمانت بھی دے دی گئی ہے۔یہ بات مقررین نے ’امپلیمنٹیشن آف تاپی پائپ لائن‘ نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) نے کیا تھا۔
اس موقع پر چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو بورڈ آف تاپی پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ ترکمانستان، محمت میرات امانو نے بتایا کہ منصوبے کے سروے کے مطابق ایک ہزار 8 سو 14 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ 33 بلین کیوبک میٹر گیس سالانہ فراہم کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر کام آئندہ سال کی پہلے سہ ماہی میں شروع کردیا جائے گا، پاکستان میں پائپ لائن بچھانے میں 2 سال کا عرصہ لگے گا جبکہ پاکستان سے بھارت تک پائپ لائن کی تنصیب کے لیے 6 سے 8 ماہ درکار ہوں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے سے 10 ہزار کے قریب ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت واضح طور پر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت سے کم ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک اور اسلامی کو آپریشن فار انشورنس اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ (آئی سی آئی ای سی) نے بالترتیب 50 کروڑ ڈالر اور 30 کروڑ ڈالر کی یقین دہانی کروائی ہے، جس سے خطے میں صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں محمت میرات امانو کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو افغانستان اور پاکستان میں کام کرنے کا تجربہ ہے اس لیے امید ہے کہ سیکیورٹی مسائل نہیں ہوگے تاہم افغانستان نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ منصوبے کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی نقطہ نظر سےمیرا ماننا ہے کہ امریکا اور چین سمیت تمام ممالک اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ روس، جاپانی اور امریکی مشینری اس منصوبے میں استعمال ہورہی ہے۔
اس موقع پر پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نے 2 سوال کیے جس میں سے ایک گیس کی قیمت کے حوالے سے تھا جبکہ دوسرا یہ تھا کہ اگر کسی دھماکے یا حملے کی صورت میں پائپ لائن متاثر ہوئی تو اس کا نقصان کون برداشت کرے گا۔جس کے جواب میں محمت میرات امانو کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمت اس وقت بتانا میرے لیے ممکن نہیں جبکہ دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اورافغانستان بھی پائپ لائن کے تحفظ کی یقین دہانی کروا چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here