آئی ایم ایف کا زرمبادلہ کی شرح اور مالیاتی پالیسی میں مزید اصلاحات کا مطالبہ

آئی ایم ایف کا گردشی قرضوں کے مسائل کے حل کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 22 فیصد اضافے کا مطالبہ

211

اسلام آباد: جمعرات کےروز پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں آئی ایم ایف حکام کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گردشی قرضوں کی روک تھام کیلئے مالیاتی پالیسی اور زرمبادلہ کی شرح کو بہتر کیا جائے اور توانائی ٹیرف میں 22 فیصد اضافہ کیا جائے۔
حکومتی اور آئی ایم ایف کے وفود نے معاشی بحران سے متعلق بیل آؤٹ پیکجز پر بات چیت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید پاکستان کو جنوری کے وسط تک قرض نہ مل سکے کیونکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ اس کیس کو منظوری کیلئے ایگزیکٹو بورڈ کے پاس بھیجنے سے قبل پاکستان مناسب اقدامات کرلے۔
ویڈیو کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ ہفتے روپے کی قدر میں کمی اور مالیاتی پالیسی کی شرح میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے شرح سود میں اضافہ کا باعث بنا
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی تعریف کی مگر بیرونی شعبوں میں مزید اقدامات کرنے پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے روپے کی قدر میں مزید گراوٹ اور مالیاتی پالیسی کی شرح میں ردوبدل کی بات کی.
ویڈیو کانفرنس میں بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کو ناگزیر قرار دیا گیا.
آئی ایم ایف نے گردشی قرضوں کے حل کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 22 فیصد اضافہ کا مطالبہ کر دیا جسے حکومت پہلے 1.27 روپے فی یونٹ کے حساب سے بڑھا چکی ہے لیکن تاحال اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here