وزیراعظم شہباز شریف کی تمباکو نوشی کی روک تھام کی پالیسی کے مطابق محکمہ کسٹمز نے راولپنڈی میں گنج منڈی پولیس کے ساتھ مل کر سمگل شدہ سگریٹ کی بڑی کھیپ قبضے میں لے لی جس کی مالیت 80 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ سگریٹ گنجامنڈی کے علاقے میں ایک گودام سے ملے تھے اور کسٹم ڈیوٹی ادا کیے بغیر ذخیرہ کیے جا رہے تھے۔
حکومت نے حال ہی میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کیلئے سگریٹ پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے اور سگریٹ کی غیر قانونی تجارت حکومت کے لئے محصولات کے نقصان کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
قبضہ میں لیے گئے سگریٹ غیر ملکی برانڈز کے تھے جنہیں قانونی ذرائع سے نہیں خریدا گیا تھا۔ پولیس نے گودام کے مالک کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔
یہ اقدامات پاکستان میں تمباکو کی غیر قانونی تجارت سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کا نتیجہ ہیں۔ صحت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نے مؤثر طریقے سے غیر قانونی تجارت کو 15 فیصد سے کم تک محدود کر دیا ہے۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ تمام کمپنیاں اس نظام کو اپنا کر مزید فوائد حاصل کریں۔
صحت عامہ اور معیشت کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے باوجود تمباکو کی صنعت نقصان کو کم کرنے کے مقصد سے کسی بھی اقدام کی دلیری سے مخالفت کرتی ہے۔ کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بجٹ کے موسم میں تمباکو کی صنعت تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے کو روکنے کے لیے غیر قانونی تجارت کے مسئلے کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ ان کے کم رپورٹنگ کے طریقوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک سموک اسکرین کا کام کرتا ہے۔ یہ کمپنیاں جان بوجھ کر اپنی پیداوار کو کم کرتی ہیں اور غیر رپورٹ شدہ مصنوعات کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں جس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
شعبہ صحت کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی صنعت کو زیادہ ٹیکس نہیں دینا چاہیئے کیونکہ یہ خود ہرگز بوجھ نہیں اٹھاتی۔ تمباکو کمپنیوں نے ٹیکسوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی قیمتوں میں اضافہ کیا جس کی بنا پر خوردہ قیمتوں میں ایکسائز ٹیکس کا حصہ 51 اعشاریہ 6 فیصد رہا جو کہ 70 فیصد کے بینچ مارک سے بھی کم ہے۔ تمباکو نوشی پاکستان میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہےجو سالانہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کی جانیں لیتی ہے۔